لائبیریا: طبی عملے کی ہڑتال کی دھمکی

لائبیریا میں سرکاری حکام نرسوں اور طبی عملے سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ قومی ہڑتال پر نہ جائیں۔
نیشنل ہیلتھ ورکرز ایسوسی ایشن چاہتی ہے کہ حکومت ایبولا کے مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والے طبی عملے کو ماہانہ طور پر زیادہ رسک فیس دے۔
دوسری طرف امریکہ میں صدر اوباما نے ایبولا کے مریضوں کی دیکھ بھال کے دوران سخت حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔
ایک ہیلتھ ورکر کو ایبولا کے ایک مریض کی دیکھ بھال کے دوران وائرس لگ گیا تھا۔
لائبیریا کے نائب وزیرِ صحت ٹالبرٹ نینسواہ نے کہا کہ ہڑتال سے اس بیماری میں مبتلا افراد پر منفی اثرات پڑیں گے اور جو ابھی تک اس بیماری کے خلاف جنگ میں ترقی ہوئی ہے اس پر بھی برا اثر پڑے گا۔
حکومت نے کہا کہ یہ وبا اتنی پھیل گئی ہے کہ جس فیس پر پہلے رضا مندی ظاہر کی گئی تھی وہ اسے دینے کی اب متحمل نہیں ہے۔
یہ رسک فیس 500 ڈالر ماہانہ ہے جو کہ 200 سے 300 ڈالر کی تنخواہ کے علاوہ ہے۔ طبی عملہ اب چاہتا ہے کہ اسے ماہانہ 700 ڈالر رسک کی فیس کے طور پر دیا جائے۔
ہیلتھ ورکر نجی حفاظتی ساز و سامان اور انشورنس بھی طلب کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ابھی تک ایبولا کی وجہ سے ان کے 95 ساتھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ لائبیریا ایبولا کی بیماری سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سے ایک ہے۔
اس بیماری سے اب تک دنیا بھر میں کم از کم 4000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے اس بیماری کے خلاف جنگ میں معاونت کے لیےگھانا میں ایک مرکز بنایا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار ماکر ڈوئل کہتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے امدادی کارکن اور ماہرین ایکرا پہنچ رہے ہیں۔ ابھی تک گھانا میں ایبولا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔
مغربی افریقہ میں چھ ماہ پہلے سے شروع ہونی والی اس وبا کے بعد اب بھی مریضوں کے لیے تقریباً ایک چوتھائی بیڈ بھی نہیں ہیں۔
لائبیریا، سیئرا لیون اور گنی کے بعض علاقوں میں بیماری پھیلنے کے بعد کاروبار میں خلل پڑنے کی وجہ سے وہاں خوراک کا بحران بھی دیکھا جا رہا ہے۔
لائبیریا میں اس خدشے کے باعث کے پولنگ سٹیشنوں پر لوگوں کے اکٹھے ہونے سے بیماری مزید نہ پھیل جائے انتخابات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔
اتوار کو امیریکن سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) یا امریکہ میں امراض پر قابو پانے کے مرکز نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ صحت کے شعبے میں کام کرنے والی ایک خاتون ڈلاس میں اس وائرس کی زد میں آ گئي تھیں۔
سی ڈی سی کے سربراہ ڈاکٹر ٹام فرائڈن نے اس معاملے میں مکمل چھان بین کرنے کا وعدہ کیا ہے تاکہ یہ پتہ چلایا جا سکے کہ آخر یہ وائرس کیسے منتقل ہوا۔
انھوں نے کہا کہ مزید 48 افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے جن کے بارے میں شبہہ ہے کہ وہ اس مرض سے متاثر ہوئے ہوں گے۔
ابتدائی طبی معائنے کے بعد پتہ چلا ہے کہ ایبولا وائرس سے ہلاک ہونے والے ایرِک ڈنکن کا علاج کرنے والی ہیلتھ ورکر کو تنہائی میں رکھا گيا ہے اور ان کی حالت سنبھلی ہوئی ہے۔
اہلکاروں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اس ہیلتھ ورکر نے، جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، ایرِک ڈنکن کے علاج کے دوران تمام حفاظتی ملبوسات پہن رکھے تھے اس کے باوجود بھی وہ اس سے بچ نہیں سکیں۔







