امریکہ کا ایبولا کے مریض کے علاج میں غلطی کا اعتراف

سی ڈی سی کے سربراہ ڈاکٹر ٹام فرائڈن نے وائرس کی منتقلی کے بارے میں مکمل چان بین کرنے کا وعدہ کیا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسی ڈی سی کے سربراہ ڈاکٹر ٹام فرائڈن نے وائرس کی منتقلی کے بارے میں مکمل چان بین کرنے کا وعدہ کیا ہے

امریکہ میں صحت کے شعبے کے ایک سربراہ نے تسلیم کیا ہے کہ ٹیکسس میں ایبولا کے شکار فرد کے علاج میں ہسپتال سے ’واضح‘ غلطی ہوئی ہے جس کی وجہ سے ایک اور فرد اس کی زد میں آیا ہے۔

امیریکن سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) یا امریکہ میں امراض پر قابو پانے کے مرکز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صحت کے شعبے میں کام کرنے والی ایک خاتون ڈلاس میں اس وائرس کی زد میں آ گئيں۔

سی ڈی سی کے سربراہ ڈاکٹر ٹام فرائڈن نے اس معاملے میں مکمل چان بین کرنے کا وعدہ کیا ہے تاکہ یہ پتہ چلایا جا سکے کہ آخر یہ وائرس کیسے منتقل ہوا۔

انھوں نے کہا کہ مزید 48 دیگر افراد کی نگرانی کی جارہی ہے جن کے بارے میں شبہہ ہے کہ وہ اس مریض سے متاثر ہوئے ہوں گے۔

ابتدائی طبی معائنے کے بعد پتہ چلا ہے کہ ایبولا وائرس سے ہلاک ہونے والے ایرِک ڈنکن کا علاج کرنے والی ہیلتھ ورکر کو تنہائی میں رکھا گيا ہے اور ان کی حالت سنبھلی ہوئی ہے۔

اہلکاروں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اس ہیلتھ ورکر نے، جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، ایرِک ڈنکن کے علاج کے دوران تمام حفاظتی ملبوسات پہن رکھے تھے اس کے باوجود بھی وہ اس سے بچ نہیں سکیں۔

ٹیکسس

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ یہ امریکی سر زمین پر ایبولا وائرس لگنے کا پہلا واقعہ ہے

اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ یہ امریکی سر زمین پر ایبولا وائرس لگنے کا پہلا واقعہ ہے۔

ڈنکن لائبیریا میں اس وائرس کی زد میں آئے تھے اور بدھ کے روز ان کا انتقال ہو گیا۔

ایبولا کی یہ وبا ابھی تک لائبیریا، گِنی اور سیرا لیون تک ہی محدود تھی اور اب تک اس وائرس کے 8300 مشتبہ کیسز سامنے آ چکے ہیں اور اس سے کم سے کم 4033 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکہ کے اس مریض کے افرادِ خانہ کی خواہش کے مطابق ان کے بارے میں کوئی تفصیلات ظاہر نہیں کی جار رہی ہے۔

افسران کا کہنا ہے کہ جمعہ کی رات انھیں ہلکے بخار کے بعد تنہائی میں رکھا گیا اور ان کے ٹیسٹ کروائے گئے اور ابتدائی نتائج سنیچر کی رات معلوم ہوئے۔

امریکہ میں اس مریض کا نام ظاہر نہیں کیا گیا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنامریکہ میں اس مریض کا نام ظاہر نہیں کیا گیا

حکام کا کہنا ہے کہ ان کی کار کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے اس میں ادویات چھڑکی گئی ہیں۔

ایرِک ڈنکن کے ایبولا وائرس کی تشخیص ڈلاس میں 30 ستمبر کو ہوئی تھی اس سے دس دن قبل ہی وہ مونورویہ سے امریکہ پہنچے تھے۔

امریکہ پہنچنے کے کچھ دن بعد وہ بیمار پڑ گئے اور تیز بخار کے بعد ٹیکسس کے ہسپتال لے جائے گئے۔

لیکن ہسپتال کے طبی عملے کو یہ بتانے کے باوجود کہ وہ لائبیریا سے واپس آئے ہیں انھیں کچھ اینٹی بائیو ٹِکس اور پین کِلرز کے ساتھ گھر واپس بھیج دیا گیا۔

جب ان کی حالت زیادہ بگڑ گئی تو انھیں تنہائی میں رکھا گیا اور تجرباتی دوا دیے جانے کے باوجود وہ بچ نہ سکے۔

مزید جو لوگ براہِ راست یا بلواسطہ طور پر ایرِک ڈنکن کےرابطے میں تھے ان کی نگرانی کی جا رہی ہے کہ کہیں ان میں تو ایبولا کی کوئی علامتیں ظاہر نہیں ہو رہیں۔