دہلی میں ایبولا سے متاثرہ شخص قرنطینہ میں

بھارتی درالحکومت دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر لائبیریا سے آنے والے ایک شخص کو ایبولا وائرس کی موجودگی کے خدشات کے پیش نظر علیحدہ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔
بھارتی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ یہ شخص لائبیریا سے آ رہا تھا جو کہ دنیا میں ایبولا سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سے ایک ہے۔
وزارت نے ایک بیان میں یہ بھی بتایا ہے کہ لائبیریا سے آنے والا نوجوان ایبولا کی زد میں تھا اور وہاں کی حکومت کی جانب سے اس کے پاس اس بیماری سے صحت یاب ہونے کی تصدیق کرنے والے اسناد بھی ہیں۔
تاہم وزارت کا کہنا ہے کہ جب اس کے منی کے نمونے لیے گئے تو ان میں ایبولا وائرس کی موجودگی کے کچھ اثرات پائے گئے۔
وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس 26 سالہ بھارتی نوجوان کا عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کی ہدایات کے مطابق لازمی ٹیسٹ کیا گیا ہے۔
جانچ میں نوجوان ایبولا سے پاک پایا گیا، لیکن اندرا گاندھی بین الاقوامی ایئرپورٹ پر آنے کے بعد اسے علیحدہ تنہائی میں رکھا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بعد میں جانچ کے دوران اس کے مادۂ منویہ میں ایبولا کی باقیات ملی ہیں۔
وزارت کے بیان کے مطابق: ’ایبولا وائرس کا علاج ہونے کے بعد انسان کے اندر بعض رطوبتوں میں کچھ وقت کے لیے اس کے باقیات موجود رہتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کے مادۂ منویہ میں اس کے اثرات رہتے ہیں تو اس سے صحت یاب ہونے کے بعد بھی 90 دنوں تک یہ بیماری جنسی فعل کی وجہ سے دوسرے شخص میں منتقل ہو سکتی ہے۔‘
وزارت کے مطابق: ’صورتحال کنٹرول میں ہے اور کسی بھی طرح سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے تاہم اس بارے میں تمام احتیاطی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔‘
مغربی افریقہ کے ممالک لائبیریا، گنی اور سیئرالیون ایبولا سے سب سے زیادہ متاثر بتائے جاتے ہیں اور دنیا بھر میں ایبولا کے تقریباً 14000 مریضوں میں اب تک لگ بھگ 5000 ہلاک ہو چکے ہیں۔







