ایبولا: وبا واقعی مانند پڑ رہی ہے؟

خدشہ تھا کہ دو نومبر تک ایبولا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 20 ہزار ہو چکی ہوگی

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنخدشہ تھا کہ دو نومبر تک ایبولا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 20 ہزار ہو چکی ہوگی

ممکن ہے کہ ہم ایبولا کے ضمن میں مغربی افریقہ میں ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں، کیونکہ عالمی ادارۂ صحت کے حلقوں میں چپکے چپکے یہ باتیں ہونا شروع ہو گئی ہیں کہ ایبولا سے متاثر ہونے والے نئے مریضوں کی مجموعی تعداد گرتی جا رہی ہے۔

محمکے کے اہلکاروں نے توقع ظاہر کی کہ اب ہر ہفتے ایبولا کے ایک ہزار نئے کیس سامنے آئیں گے۔

اگر اس تعداد کا موازنہ ایبولا وائرس کی وبا کے ابتدائی دنوں سے کیا جائے تو صورت حال خاصی بہتر دکھائی دیتی ہے کیونکہ ابتدا میں ہر تین چار ہفتوں میں مریضوں کی تعداد میں دوگنا اضافہ ہو رہا تھا۔

ستمبر میں امپیرئل کالج لندن اور عالمی ادارۂ صحت کے ماہرین کی مشترکہ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ دو نومبر تک ایبولا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 20 ہزار ہو چکی ہوگی۔ اس کے برعکس آج ایبولا کے مصدقہ اور ممکنہ تمام مریضوں کی تعداد 13,567 سے زیادہ نہیں ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ مرض کے بارے میں ابتدائی اندازوں کی کوئی اہمیت نہیں، بلکہ ریاضی کے علم کے تحت ’میتھمیٹیکل ماڈلنگ‘ کے ذریعے حاصل کیے جانے والے ابتدائی تخمینوں کا فائدہ یہ ہوا کہ ان سے دنیا کی توجہ ایبولا کی جانب مبذول کرانے میں بہت مدد ملی۔

تاہم لگتا ہے کہ اب ابتدائی اندازوں کا مرحلہ شاید ختم ہو گیا ہے۔

جہاں تک بیماری کے پھیلاؤ کے رجحان کا تعلق ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں اس میں کمی آ رہی ہے: ڈاکٹر کرسٹوفر ڈائی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنجہاں تک بیماری کے پھیلاؤ کے رجحان کا تعلق ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں اس میں کمی آ رہی ہے: ڈاکٹر کرسٹوفر ڈائی

ایبولا کے پھیلاؤ کی پیش گوئی کا مشکل کام عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل کے دفتر سے منسلک ڈاکٹر کرسٹوفر ڈائی کے ذمے ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ دنوں کے دوران ایبولا کے پھیلاؤ کے جو اعداد و شمار منظر عام پر آئے ہیں وہ اندازوں سے مختلف ہیں۔

’ہمیں جو نظر آیا ہے وہ یہ ہے کہ مغربی افریقہ کے تین متاثرہ ممالک کے ان علاقوں میں جہاں ایبولا پھیلا تھا، وہاں اس کے مزید پھیلاؤ میں بڑی واضح کمی ہو رہی ہے۔

’اب جب ہم ان ممالک میں ایبولا کے پھیلاؤ کے مجموعی اعداد و شمار دیکھتے ہیں تو میں کہہ سکتا ہوں کہ ہر ہفتے ایبولا کے مریضوں میں اضافہ ہمارے اندازے سے زیادہ نہیں ہوگا، یعنی فی ہفتہ تقریباً ایک ہزار مریض۔‘

ڈاکٹر کرسٹوفر ڈائی کے بقول ’جہاں تک بیماری کے پھیلاؤ کے رجحان کا تعلق ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں اس میں کمی آ رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’ہمیں معلوم ہے کہ ایبولا کے تمام مریض سامنے نہیں آتے، اس لیے ہمیں اعداد و شمار کو ذرا احتیاط سے دیکھنا چاہیے، لیکن بحیثیت مجموعی ہم اگست اور ستمبر کے اس مرحلے سے نکل چکے ہیں جب یہ وبا بہت تیزی سے پھیل رہی تھی۔‘