امریکہ کی ایبولا کے خلاف کوششوں کی تعریف

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سمینتھا پاور اور لائبیریا کی صدر جانسن سرلیف نے ایبولا سے لڑنے کا عزم ظاہر کیا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ میں امریکی سفیر سمینتھا پاور اور لائبیریا کی صدر جانسن سرلیف نے ایبولا سے لڑنے کا عزم ظاہر کیا

امریکہ نے ایبولا سے متاثرہ مغربی افریقی ممالک اور غیر ملکی امداد دینے والوں کی ایبولا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ان کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سمینتھا پاور نے متاثرہ علاقے کے دورے میں کہا کہ لائبیریا اور سیئرا لیون نے وسیع پیمانے پر محفوظ قبرستانوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ تدفین اس وائرس کے پھیلاؤ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

پاور نے کہا کہ بین الاقوامی مالی تعاون اس مرض سے لڑنے میں مدد کر رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی انھوں نے عطیہ دہندگان کو امداد جاری رکھنے کی اپیل کی۔

 امریکہ نے ایبولا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عالمی کوششوں کی تعریف کی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن امریکہ نے ایبولا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عالمی کوششوں کی تعریف کی

اس مرض میں اب تک تقریباً پانچ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دس ہزار سے زیادہ افراد ابھی بھی اس سے متاثر ہیں۔

امریکی حکومت اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے شروع سے ہی اس بات پر زور دے رہی ہے کہ اس کو اس کی پیدا ہونے والی جگہ پر ہی روکا جائے اور اس نے اس علاقے کے سفر پر لگائی جانے والی پابندیوں کو مسترد کر دیا ہے۔

ادھر آسٹریلیا نے متاثرہ ممالک سے آنے والوں کو ویزا دینے پر پابندی کو منظوری دے دی ہے اور حکومت نے اپنے طبی عملے کو مغربی افریقہ روانہ کرنے سے اعراض کیا ہے۔

لائبیریا کے دارالحکومت منروویا میں سمینتھا پاور کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لائبیریا کی صدر ایلن جونسن سرلیف نے کہا کہ ’اس عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے پابندیاں عائد کرنا مناسب طریقہ نہیں ہے۔‘

انھوں نے ایبولا کے مریضوں کو کلنک قرار دیے جانے کے خلاف متنبہ کیا ہے۔

اس نئی وبا کے تقریباً تمام تر شکار لائبیریا، گنی اور سیرا لیون کے لوگ ہوئے ہیں۔

امریکی سفیر نے کہا کہ لائبیریا کے باشندوں کے لیے امریکی حکومت کی جانب سے یہ پیغام ہے کہ وائرس کو شکست دی جائے گی۔

اس سے قبل عالمی بینک کے صدر جم یونگ کم نے کہا تھا کہ اس مرض کو شکست دینے کے لیے کم از کم پانچ ہزار ڈاکٹروں اور طبی معاونین کی ضرورت ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service