ایبولا: سفری پابندیوں پر ہنگامی اجلاس

،تصویر کا ذریعہREUTERS
عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) بدھ کو جنیوا میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد کر رہا ہے جس میں ان کوششوں کا جائزہ لیا جائے گا جو ایبولا کے وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔ ان اقدامات میں سفری پابندیاں اور مسافروں کی سکریننگ بھی شامل ہے۔
یہ وائرس مغربی افریقہ میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔
امریکہ میں نئے قوانین کے مطابق لائبیریا، گنی اور سیئرالیون سے آنے والے مسافر صرف پانچ امریکی ہوائی اڈوں پر ہی اتر سکتے ہیں۔
دریں اثنا سیئرالیون کے ایک شہر میں کرفیو لگا دیا گیا ہے جہاں منگل کو ہونے والے تشدد کے واقعات میں دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
ایبولا کی وبا کی وجہ سے اب تک ساڑھے چار ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ کا تعلق گنی، لائبیریا اور سیئرالیون سے ہے۔
ڈبلیو ایچ او پر تنقید کی جا رہی ہے کہ اس نے وبا سے نمٹنے کے لیے بہت سست روی سے کام لیا ہے۔
جینیوا میں بی بی سی کی نامہ نگار اموجن فولکس کے مطابق ایبولا کے خلاف بنائی جانے والی پہلی تجرباتی ویکسین بھی سوئٹزرلینڈ پہنچ رہی ہے۔
تاہم نامہ نگار کے مطابق ایبولا کے لیے مکمل طور پر منظور کی گئی ویکسین کی دستیابی میں ابھی کئی ماہ یا شاید سال لگ سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
ایبولا سے زیادہ متاثرہ تین ممالک سے امریکہ آنے والے مسافر اب شکاگو کے اوہیئر، جے ایف کے، نیوآرک، واشنگٹن کے ڈلس اور اٹلانٹا کے ہوائی اڈوں پر ہی اتر سکتے ہیں جہاں انھیں مکمل سکریننگ کے عمل سے گزرنا ہو گا۔
یہ نئے اقدامات امریکہ میں وبا کے متعلق عوامی تشویش کے بعد کیے جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ امریکہ میں تین افراد ایبولا سے متاثر ہیں جبکہ ایک اس وائرس سے ہلاک ہو چکا ہے۔
یہ احتیاطی تدابیر سفر پر مکمل پابندی کی اس تجویز سے ذرا کم ہیں جس کا مطالبہ امریکی کانگریس کے کچھ اراکین نے کیا تھا۔
امریکہ کی داخلی سکیورٹی کے وزیر جے جونسن نے کہا ہے کہ حکام فضائی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ کم از کم سفری رکاوٹیں پیش آئیں۔
لائبیریا، سیئرالیون اور گنی سے امریکہ کے لیے براہ راست پروازیں نہیں آتیں، لیکن جونسن کا کہنا ہے کہ حکام ایسے افراد کی شناخت کی کوشش کر رہے ہیں جنھوں نے گذشتہ 21 دنوں میں ان ممالک کا سفر کیا ہو۔







