امریکہ میں ایبولا سے بچاؤ کے لیے سخت احتیاطی تدابیر

ایبولا مریض کے ماحول میں موجود ہونے سے بھی پھیل سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنایبولا مریض کے ماحول میں موجود ہونے سے بھی پھیل سکتا ہے

امریکی شہر نیویارک اور نیو جرسی کے گورنروں نے حکم دیا ہے کہ مغربی افریقی ممالک سے آنے والے ان تمام مسافروں کو 21 دن کے لیے الگ تھلگ رکھا جائے جن کا واسطہ کسی بھی طرح سے ایبولا کے مریضوں سے رہا ہے۔

آندرے كومو اور کرس کرسٹی کا یہ مشترکہ اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایک دن پہلے ہی ڈاکٹر کریگ سپینسر میں ایبولا کی تصدیق ہوئی ہے جو کچھ وقت پہلے گنی سے لوٹے تھے۔

دونوں گورنروں نے کہا کہ جمعے کو افریقہ سے واپس آئے ایک اور طبی کارکن کو الگ تھلگ کر دیا گیا ہے لیکن ان میں ابھی تک ایبولا کی علامات نہیں پائی گئیں۔

اس ددوران ان دو نرسوں کو ایبولا سے پاک قرار دیا گیا ہے جو ٹیکساس میں لائبیریا سے آئے ایبولا مریض کا علاج کرتے وقت بیماری ہو گئی تھیں۔

ان میں سے ایک نرس نینا فام کو ہسپتال سے چھٹی دے دی گئی ہے۔ انھیں صدر اوباما نے وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دی ہے۔ نرس نینا فام نے صدر سے ملاقات بھی کی۔

مالی میں ایبولا

مالی میں بھی ایبولا کے پھیلاؤ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمالی میں بھی ایبولا کے پھیلاؤ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے

اسی اثنا میں مالی میں ایبولا کا شکار دو سالہ بچی ہلاک ہو گئی ہے ۔

عالمی ادارہ صحت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ بچی قریب 200 کلومیٹر دور سے بس میں آئی تھی اور اس دوران کم از کم 40 لوگ اس بچی کے رابطے میں آئے ہیں جنھیں الگ تھلگ کر دیا گیا ہے۔

اس بچی کو اس کی دادی اس وقت مالی لے کر آئیں جب گنی میں بچی کی ماں کی موت ہو گئی تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگار افریقہ کے مطابق اب مالی کے سامنے یہ چیلنج ہے کہ ان لوگوں کو تلاش کیا جائے جن کے اس بچی کے ساتھ رابطے میں ہونے کا امکان ہے۔

ایبولا سے بچاؤ کے لیے دوا کی تیاری کی کوششیں تیزی سے جاری ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنایبولا سے بچاؤ کے لیے دوا کی تیاری کی کوششیں تیزی سے جاری ہیں