لائیبریا میں ایبولا کے مریضوں میں کمی

عالمی ادارہ صحت کےاسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل بروس کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ لائیبریا میں اس وائرس کے پھیلاؤ میں کمی آئی ہے

،تصویر کا ذریعہap

،تصویر کا کیپشنعالمی ادارہ صحت کےاسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل بروس کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ لائیبریا میں اس وائرس کے پھیلاؤ میں کمی آئی ہے

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ایبولا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک لائبیریا میں اس کے پھیلاؤ میں کمی واقع ہوئی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کےبروس ایلیورڈ کا کہنا ہے کہ وہ پراعتماد ہیں کہ ایبولا پر قابو پایا جا رہا ہے تاہم انھوں نے متنبہ کیا کہ ابھی بھت ایبولا بحران ختم نہیں ہوا ہے۔

دوسری جانب لائیبیریا کی ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ پچھلے ہفتے اس نے 117 لاشیں اکٹھی کی ہیں جبکہ ستمبر میں یہ تعداد 315 تھی۔ ریڈ کراس کا مزید کہنا ہے کہ لائیبریا کے ہسپتالوں میں خالی بستر دستیاب ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کےاسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل بروس کا کہنا ہے ’ایسا لگتا ہے کہ لائیبریا میں اس وائرس کے پھیلاؤ میں کمی آئی ہے۔ کیا ہم پراعتماد ہیں کہ ہمیں کامیابی حاصل ہوئی ہے؟ ہاں کیونکہ ایبولا کے نئے مریضوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔‘

یاد رہے کہ افریقی ملک سیئیرا لیون نے آسٹریلیا کے اس فیصلے کو ’بے سود‘ اور ’متعصبانہ‘ قرار دیا تھا جس کے تحت ایبولا سے متاثرہ مغربی افریقہ کے ممالک کے ویزے منسوخ کیے گئے ہیں۔

آسٹریلوی حکومت کی جانب سے ویزوں کی منسوخی کے فیصلے کو انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی کہا کہ سفری پابندیوں سے ایبولا پر قابو پانے کی کاوشوں پر اثر پڑے گا۔

واضح رہے کہ ایبولا وائرس سے اب تک 5000 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ہلاک ہونے والوں کی اکثریت مغربی افریقہ کے ممالک سیئیرا لیون، لائبیریا اور گنی سے ہیں۔