پاکستان میں مندروں کو سرکاری سکیورٹی دینے کا مطالبہ

پاکستان میں ہندو برادری کی تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں ہندوؤں کے 14 سو مندروں کو سرکاری سکیورٹی فراہم کی جائے۔
پاکستان ہندو کونسل کے سربراہ اور ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں گذشتہ روز جمعے کو صوبہ سندھ کے علاقے ٹنڈو محمد خان میں ہنومان مندر کو نذرِ آتش کرنے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات برائے تحفظِ حقوق اقلیتوں پر عملدرآمد نہ ہونا تشویشناک ہے۔
’اگر سپریم کورٹ کے تحفظِ حقوق اقلیتوں کے حوالے سے جاری کردہ احکامات پر عملدرآمد پر کیا جائے تو ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکتا ہے۔جب ملک بھر میں مقدس مقامات و مذہبی تقریبات کو سرکاری سطع پر تحفظ حاصل ہے تو نہتے ہندوؤں کو کیوں شرپسندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔‘
انھوں نے اپنے بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں مذہبی مقامات بالخصوص اقلیتی عبادت گاہوں کو سرکاری سطع پر سکیورٹی فراہم کی جائے۔
دو دن پہلے ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے اسلام آباد میں جنوبی ایشیا میں صحافیوں کی تنظیم سیفما کے زیراہتمام ایک سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ صوبہ سندھ میں ہندو اور عیسائی بچیوں کو زبردستی مسلمان بنانے کے باعث ہر سال پانچ ہزار ہندو پاکستان چھوڑ کر دوسرے ممالک کو جا رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
’اگر کسی ایک صوبے کے اندر کسی ہندو بچی کو زبردستی مسلمان کیا جاتا ہے یا کسی چرچ یا مندر کو جلایا جاتا ہے تو عالمی سطع پر اس سے پورے ملک کی بدنامی ہوتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ صوبہ سندھ میں ہندو بچیوں کو بندوق کے زور پر زبردستی مسلمان کرنے سے متعلق سپریم کورٹ نے جون میں 32 صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی فیصلہ دیا تھا لیکن وفاقی اور صوبائی حکومت کی جانب سے آج تک اس پر عمل نہیں ہو سکا ہے۔
پاکستان کے صوبہ سندھ میں گذشتہ کچھ عرصے سے اقلیتوں کے مذہبی مقامات پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







