’تاحال او جی ڈی سی ایل کی نجکاری کا منصوبہ نہیں‘

سپیکر کی جانب سے بولنے کی اجازت نہ ملنے پر حزبِ اختلاف کے ارکان نے احتجاجاً واک اوٹ کیا
،تصویر کا کیپشنسپیکر کی جانب سے بولنے کی اجازت نہ ملنے پر حزبِ اختلاف کے ارکان نے احتجاجاً واک اوٹ کیا
    • مصنف, ایوب ترین
    • عہدہ, بی بی سی اردوڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی قومی اسمبلی میں حزب اختلاف نے تیل اور گیس کے قومی ادارے ’او جی ڈی سی ایل‘ کے ملازمین کی گرفتاری کے بعد جیل بھیجنے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نہ صرف اجلاس سے واک آؤٹ کیا بلکہ اسمبلی کے سامنے علامتی دھرنا بھی دیاہے۔

جبکہ حکومت نے کہا ہے کہ اوجی ڈی سی ایل کو نہ تو پرائیویٹائز کیا جا رہا ہے اور نہ ہی کسی مزدور کو بے روزگار کیا جائےگا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس جمعے کو سپیکر ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوا۔ وقفۂ سوالات کے دوران پیپلز پارٹی کی خاتون رکن شازیہ مری نے پوائنٹ آف آرڈر پر کہا کہ جمعرات کوحزب اختلاف کے لیڈر سید خورشید شاہ نے ’اوجی ڈی سی ایل‘ کے گرفتار ملازمین کا مسئلہ اٹھا کر انھیں رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

’لیکن وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نےملازمین کے مسئلے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی بجائےسید خورشید شاہ کی باتوں پر جذباتی انداز میں کہا تھا کہ یہاں لوگ ہر بات کا بتنگڑ بنا لیتے ہیں جوکہ ہمارے لیے قابل تشویش ہے۔‘

اس موقع پر جماعت اسلامی کے رکن صاحبزادہ طارق اللہ نے ’اوجی ڈی سی ایل‘ کو پرائیویٹائز کرنے کی پالیسی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ادارے کی نجکاری کی جا رہی ہے جس نے پانچ سال میں حکومت کو مختلف مدات میں 142 ارب روپے کا منافع دیا ہے۔ اس کے باوجود اس منافع بخش ادارے کو ایک غیر ملکی کمپنی کے ہاتھوں فروخت کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رکن حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ انتخابات کے دوران جب ہم عوام کے پاس جاتے ہیں تو اس وقت سب غریب، کسان، مزدور کی بات کرتے ہیں اور انھیں زندگی کی تمام سہولتیں دینے کی دعوے کرتے ہیں اور جب انہی غریب، کسان اور مزدور کے ووٹوں سے منتخب ہونے کے بعد حکومت میں آکر بیٹھ جاتے ہیں۔ تو پھرتمام باتیں اور دعوے بھول جاتے ہیں۔

حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ جن لوگوں نے پاکستان کے قومی ادارے ( پی ٹی وی) پر حملہ کیا اس پر مقدمہ چلانا تو دور کی بات کسی نے انھیں گرفتار تک نہیں کیا۔

انھوں نے اوجی ڈی سی ایل کی نجکاری کے سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہم توخسارے میں چلنے والی ادارے (پی آئی اے) اور ریلوے کی پرائیویٹائزیشن کے بھی خلاف ہیں اور ان اداروں کو بہتر کرنے کی ضرورت پر زور دیتے رہیں گے۔

اس موقع پر فاٹا سے تعلق رکھنے والے رکن حاجی شاجی گل آفریدی نے پرائیوٹائزشن پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں حکومت کے زیرِ انتظام چلنے والے تمام ادارے خسارے میں جا رہے ہیں جس کے باعث ملک معاشی طور پر کمزور ہوتا جا رہا ہے۔

انھوں نے تجویز پیش کی کہ اگرملکی سطع پر بیرونی قرضوں سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہے تو خسارے میں چلنے والے تمام اداروں کی نجکاری کی جائے۔

انھوں نے الزام لگایا کہ ’اوجی ڈی سی ایل‘ میں کچھ لوگ جو سیاسی بنیادوں پربھرتی ہونے اور کم تعلیم کے باوجود اعلی عہدوں پر فائز ہیں۔

اس کے بعد شازیہ مری نے شاجی گل افریدی کو جواب دینے کی کوشش کی لیکن سپیکر کی جانب سے بولنے کی اجازت نہ ملنے پر پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی کے ارکان احتجاجاً واک آوٹ کرکے اسمبلی کے باہرجانے کے بعد ہاتھوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کرکچھ دیر کے لیے علامتی دھرنا دیا اور حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی کی۔

تاہم وفاقی وزیرآفتاب شیخ نے واضح کیا کہ حکومت نے تاحال ’اوجی ڈی سی ایل‘ کو پرائیویٹائز کرنے کاکوئی منصوبہ نہیں بنایاہے اور نہ ہی کسی مزدور کونکال کر بے روز گار کیا جا رہے لیکن (او جی ڈی سی ایل) کے ملازمین کو اس بات کا علم تھا کہ اسلام آباد میں نافذ دفعہ 144نافذ ہے اس کے باوجود انھوں نے جلوس کی صورت میں سڑکوں پر باہرآکر ایک ڈی ایس پی اور پولیس کانسٹیبل کو زخمی کیا۔

انھوں نے بتایا کہ حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی ہے جس کا رپورٹ آنے کے بعد سب کچھ واضح ہوجائےگا۔

وفاقی وزیر شیخ آفتاب نے الزام لگایا کہ حزب اختلاف کے احتجاج کا مقصد ’اوجی ڈی سی ایل‘ ملازمین کے ساتھ ہمدردی نہیں بلکہ وہ موجودہ حکومت کی بہتر کارکردگی سے خائف ہے۔

ان کے بقول وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں قائم مسلم لیگ (ن ) کی حکومت نے سال2018 تک ملک سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کامکمل خاتمہ مزید کارخانے لگانے، نئی سڑکیں بنانے اور لوگوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا عزم کیا ہے۔ جس کے باعث حزب اختلاف کی جماعتوں کو خدشہ ہے کہ اگرنواز شریف اپنے انقلابی پروگرام میں کامیاب ہوگئے تو2018 میں ہونے والا انتخابات کے بعد بھی حزب اختلاف کواقتدار نہیں مل سکتا۔