گیس کے بلوں میں انفراسٹرکچر ڈولپمنٹ سرچارج کالعدم

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے تحت پائپ لائن بچھانے پر کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے تحت پائپ لائن بچھانے پر کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی ہے
    • مصنف, شمائلہ جعفری
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

لاہور ہائیکورٹ نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے لیے گیس کے بلوں میں انفراسٹرکچر ڈولپمنٹ سرچارج کی وصولی کے آرڈیننس کو کالعدم قرار دیتے ہوئے محکمے کو اس سرچارج کی وصولی سے روک دیا ہے۔

سرچارج کی وصولی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں لگ بھگ تین سو درخواستیں دائر کی گئیں تھی۔

درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا تھا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن کے نام پر سرچارج کی وصولی بلاجواز ہے۔

اس منصوبے پر کام نہیں ہو رہا لیکن صارفین سے رقم وصول کی جا رہی ہے۔

درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ڈولپمنٹ سرچارج کی وصولی روکا جائے اور اس مد میں وصول کی گئی رقم واپس کروائی جائے۔

پاکستان کو گذشتہ کئی سالوں سے قدرتی گیس کی قلت کا سامنا ہے اور موسمِ سرما میں یہ بحران شدت اختیار کر جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپاکستان کو گذشتہ کئی سالوں سے قدرتی گیس کی قلت کا سامنا ہے اور موسمِ سرما میں یہ بحران شدت اختیار کر جاتا ہے

عدالت میں وفاقی حکومت کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ انفراسٹرکچر ڈولپمنٹ سرچارج پاکستان ایران گیس پائپ لائن کی تکمیل کی غرض سے عائد کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کی گئی ہے۔ لہٰذا اس اپیل کے فیصلے تک لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواستوں پر فیصلہ موخر کر دیا جائے۔

تاہم لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان نے اس موقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے پر کام نہیں ہو رہا اس لیے صارفین سے منصوبے کے نام پر اضافی رقم وصول کرنا بلاجواز ہے۔

انھوں نے محکمے کو سرچارج کی وصولی سے روک دیا اور وصول کی جا چکی رقم کی واپسی کے لیے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کردیا۔ جس کے بعد کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔