’دھرنے تو جاری رہیں گے، کاروباری سرگرمیاں بحال کر لیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
ایم کیو ایم نے اپنے سربراہ الطاف حسین کی لندن میں حراست کے بعد شروع ہونے والے احتجاجی دھرنے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے تاہم تنظیم نے کراچی اور دوسرے شہروں میں تاجروں اور ٹرانسپورٹروں سے اپنا کام بحال کرنے کی اپیل کی ہے۔
اس بات کا اعلان جماعت کے ڈپٹی کنوینر خالد مقبول صدیقی نے بدھ کی شب کراچی کی ایم اے جناح روڈ پر مرکزی دھرنے کے مقام پر ایک پریس کانفرنس میں کیا۔
ایم کیو ایم کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کی لندن میں ایم کیو ایم کے عالمی سیکریٹیریٹ میں بات چیت کے بعد جماعت تمام تاجروں، صنعت کاروں، دکانداروں اور ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے وابستہ افراد سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رکھیں۔
تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایم کیو ایم کراچی سمیت ملک بھر میں دھرنوں کا سلسلہ جاری رکھے گی۔
اس سے قبل ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا تھا کہ جب تک حکومتِ پاکستان اور برطانوی حکومت الطاف حسین کی صحت کی ضمانت نہیں دیتی دھرنے جاری رہیں گے۔
فاروق ستار کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کی طبیعت ناساز ہے اس کے باوجود ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر الطاف حسین کو کچھ ہوا تو لوگوں کے اس ہجوم کو روکنا مشکل ہو جائےگا اس کی ذمہ داری پاکستان اور برطانیہ کی حکومتوں پر ہوگی۔
دھرنے کی وجہ سے بدھ کو کراچی کی شاہراہیں ویرانی کا منظر پیش کرتی رہیں اور دوسرے روز بھی لوگوں نے خود کو گھروں تک محدود رکھا۔
ایمپریس مارکیٹ، لیاقت آباد، حیدری، طارق روڈ، برنس روڈ، بولٹن مارکیٹ اور الیکٹرانک مارکیٹ سمیت شہر کے بیشتر پیٹرول پمپ اور سی این جی اسٹیشن بھی بند رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایم کیو ایم کے سربراہ کی گرفتاری کی اطلاع پر منگل کو ہی کراچی کے بازار بند اور ٹرانسپورٹ معطل ہوگئی تھی۔
کراچی کی جامعات اور تعلیمی بورڈوں نے بدھ کو ہونے والے امتحانی پرچے ملتوی کر دیے جبکہ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں۔
بدھ کی صبح متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے دھرنے کی جگہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں، تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انھوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم عدم تشدد کی پالیسی پر یقین رکھتی ہے جس کی مثال یہ پرامن دھرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ بھی احتجاج نہیں ہے بلکہ صرف لوگوں کا اظہار ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا: ’شہر میں اگر کچھ اور ہو رہا ہے تو اس سے ایم کیو ایم کا تعلق نہیں ہے، کچھ شر پسند صورتحال کا فائدہ اٹھنا چاہتے ہیں، اور امید ہے کہ تنظیم ان پر نظر رکھے گی۔‘
ایم کیو ایم کے رہنما کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے ’الطاف حسین کی ضمانت کی درخواست ہی نہیں دی تو مسترد ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، میڈیا کو ذمہ داری کے ساتھ حقائق بیان کرنا چاہییں۔‘
انھوں نے بتایا: ’یہ کہا گیا کہ 60 پولیس اہلکار آئے اور دیواروں سے کود کر اندر داخل ہوئے۔ یہ سب بے بنیاد ہے۔ ایسی خبریں نہ دی جائیں جس سے کارکنوں میں طیش پیدا ہو۔‘
الطاف حسین کی گرفتاری کی خبر سامنے آنے کے بعد کراچی اور حیدر آباد دونوں شہروں میں شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے اور متعدد گاڑیاں نذرِ آتش کر دی گئی۔ کراچی اور حیدرآباد کے بعض علاقوں سے شدید فائرنگ کی اطلاعات بھی ملی تھیں۔







