’برطانوی عدالتیں آزاد ہیں، امید ہے انصاف ہو گا‘

،تصویر کا ذریعہAP
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی لندن میں گرفتاری کی اطلاع پر سیاسی جماعتوں کا ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے اور سبھی سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق معاملات آگے بڑھنے چاہییں، جبکہ انھوں نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو صبر سے کام لینے کی تلقین کی ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی
ایم کیو ایم کے گڑھ یعنی کراچی میں عوامی نیشنل پارٹی کو ایم کیو ایم کا حریف سمجھا جاتا ہے۔ جماعت کے ترجمان زاہد خان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی کو اس صورتحال میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کے ساتھ ہمدردی ہے اور امید ہے کہ برطانیہ کی عدالتیں ان کے ساتھ انصاف کریں گی۔

انھوں نے کہا: ’امید ہے کہ وہ ان کے ساتھ انصاف کریں گے کیونکہ وہاں کی عدالتیں اور پولیس آزاد ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی صورتحال کے حوالے سے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو صبر سے کام لینا چاہیے، کراچی کو بند کرنے اور ہنگامے کرنے سے پاکستان کو نقصان ہو گا برطانیہ کو نہیں ہوگا۔
زاہد خان نے کہا کہ برطانیہ میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں کے وزیراعظم اور وزیروں کے خلاف تبھی کارروائی ہوتی ہے جب کوئی جرم ہو۔
الطاف حسین کی جانب سے حکومت پاکستان سے پاسپورٹ کی درخواست کی گئی تاہم انھیں پاسپورٹ نہیں دیا گیا۔ اس سوال پر کہ اگر ایسا ہو جاتا تو وہ بچ جاتے کیا پاکستان کی حکومت کا بھی اس میں کوئی کردار نظر آتا ہے؟
اس سوال کے جواب میں اے این پی کے ترجمان زاہد خان نے کہا کہ ’میرے خیال میں ایسا نہیں ہے کیونکہ اگر پاکستان انھیں پاسپورٹ دے بھی دیتا تو برطانوی حکومت شاید جرم کی تفتیش کی وجہ سے انھیں آنے نہ دیتی۔‘
پاکستان پیپلز پارٹی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور قانونی ماہر اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ یہ قانون کا معاملہ ہے اس خبر پر بہت سے پاکستانیوں کی دل آزاری ہوئی ہے: ’ہمیں اس بات کا دکھ اور افسوس تو بہت ہے۔ یہ پاکستان کے لیے بالکل خوش آئند بات نہیں ہے۔ لیکن قانون کا معاملہ ہے اور ایک ایسے ملک میں ہے جسے الطاف نے خود اپنایا تھا۔ وہاں کے قانون کے مطابق فیصلہ ہو گا۔ ہم صرف یہ چاہیں گے کہ یہ قانون کے مطابق ہو اور اس میں الطاف کے ساتھ کوئی امتیاز نہ برتا جائے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اعتزاز احسن نے کہا کہ پاکستان کی حکومت برطانوی حکومت سے بطور اپنے شہری الطاف حسین کی واپسی کی درخواست تو کر سکتی ہے کہ لیکن یہ پاکستان کے لیے مشکل ہو گا کیونکہ الطاف حسین پاکستان کے علاوہ برطانوی شہری بھی ہیں۔
جمیعت علما اسلام ف
جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمان گروپ) کے رہنما سینیٹر غفور حیدری کہتے ہیں کہ اگر برطانیہ کی حکومت نے الطاف حسین کو گرفتار کیا ہے تو یقیناً اس میں کوئی بات ہوئی ہو گی۔
’دو باتیں آرہی ہیں ایک تو ان کی گرفتاری کی اور دوسری یہ کہ ان کی پارٹی کہتی ہے کہ نہیں پولیس تو آ کر ان سے کوئی بیان لینا چاہتی تھی اتنی سی بات تھی۔ لیکن اگر حکومت برطانیہ نے انھیں گرفتار کیا ہے تو یقیناً کوئی مسئلہ ہو گا۔
’پاکستان کی جانب سے الطاف حسین کو پاسپورٹ کیوں نہیں دیا گیا؟ اس بارے میں تو وزارت داخلہ ہی بتا سکتی ہے۔ تاہم شاید یہی خدشات تھے جن کی وجہ سے الطاف حسین پاکستان آنا چاہتے تھے۔‘







