الطاف حسین طبی معائنے کے لیے تھانے سے ہسپتال منتقل

لندن پولیس کا کہنا ہے کہ نارتھ ویسٹ لندن کی مجوزہ پراپرٹی پر منگل کی شام گئے تک سرچ آپریشن جاری تھا
،تصویر کا کیپشنلندن پولیس کا کہنا ہے کہ نارتھ ویسٹ لندن کی مجوزہ پراپرٹی پر منگل کی شام گئے تک سرچ آپریشن جاری تھا

پاکستان کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کو منی لانڈرنگ کے الزامات میں گرفتاری کے بعد پولیس کی حراست میں منگل کی شام ہسپتال لے جایا گیا ہے۔

لندن کی میٹروپولیٹن پولیس قانونی وجوہات کی بنا پر الطاف حسین کا نام ظاہر نہیں کر رہی ہے تاہم ایم کیو ایم نے منگل کی صبح الطاف حسین کو حراست میں لے کر مرکزی لندن کے ایک تھانے میں منتقل کیے جانے کی خبر تصدیق کی تھی۔

میٹروپولیٹن پولیس کی ویب سائٹ پر کہا گیا ہے کہ منگل کی صبح شمال مغربی لندن سے گرفتار کیے جانے والے 60 سالہ شخص کو پولیس کی حراست میں طبی معائنے کے لیے ہسپتال لے جایا گیا ہے۔

پولیس نے مزید کہا ہے کہ طبی معائنے کی تاریخ پہلے سے طے تھی اور معائنے کے دوران مذکورہ شخص پولیس کی حراست میں ہی رہے گا۔

ایم کیو ایم کے رہنما واسع جلیل نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار عادل شاہ زیب کو بتایا کہ الطاف حسین منگل کی شب ہسپتال میں ہی رہیں گے اور بدھ کی صبح 11 بجے ان کے ٹیسٹ ہوں گے۔

کراچی میں کئی جگہوں پر مشتعل افراد نے مسافر بسوں کو آگ لگا دی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکراچی میں کئی جگہوں پر مشتعل افراد نے مسافر بسوں کو آگ لگا دی

نامہ نگار کے مطابق الطاف حسین کو سدرک کے پولیس سٹیشن میں زیرِ حراست رکھا گیا تھا اور ہسپتال سے فارغ ہونے کے بعد انھیں دوبارہ وہیں لے جائے جانے کا امکان ہے۔

اس سے قبل ایم کیو ایم کے ترجمان مصطفی عزیز آبادی نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ الطاف حسین کو منی لانڈرنگ کے کیس میں حراست میں لیا گیا اور پھر انھیں مزید پوچھ گچھ کے لیے مرکزی لندن کے تھانے منتقل کر دیا گیا۔

مصطفی عزیز آبادی نے کہا ہے کہ الطاف حسین کے ہمراہ وکلاء کی ٹیم ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پولیس کئی گھنٹوں تک الطاف حسین کی رہائش گاہ پر موجود رہی اور گھر کی تلاشی بھی لی گئی۔

واضح رہے کہ الطاف حسین کی عمر 60 سال ہے اور وہ 1990 کی دہائی کے اوائل سے لندن کے اسی علاقے میں مقیم ہیں جہاں یہ کارروائی کی گئی۔

یاد رہے کہ چند ماہ قبل لندن پولیس نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں انسداد دہشت گردی کے یونٹ نے الطاف حسین کے دفتر پر پہلا چھاپہ چھ دسمبر سنہ دو ہزار بارہ کو پولیس اینڈ کرمنل ایویڈنس ایکٹ کے تحت مارا تھا۔

اس چھاپے کے دوران دفتر سے نقد رقم برآمد ہوئی تھی۔ پولیس نے اس رقم کے بارے میں مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی تھی تاہم پولیس کا کہنا تھا کہ یہ رقم پروسیڈ آف کرائم ایکٹ کے تحت قبضے میں لے لی گئی۔

پولیس نے اٹھارہ جون دو ہزار تیرہ کو شمالی لندن کے دو گھروں پر چھاپہ مارا تھا۔ یہ چھاپہ پولیس اینڈ کرمنل ایکٹ کی دفعہ آٹھ کے تحت مارا گیا تھا اور اس میں پولیس نے ’قابل ذکر‘ مقدار میں رقم قبضے میں لی تھی۔ پولیس نے سرکاری طور پر ابھی تک یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ رقم کتنی تھی۔

چند ماہ قبل بی بی سی کے پروگرام نیوزنائٹ میں بی بی سی کے نامہ نگار اوون بینیٹ جونز نے ایم کیو ایم کے قائد کے بارے میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ ان کے خلاف ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے علاوہ، منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری اور کراچی میں پارٹی کارکنوں کو تشدد پر اکسانے کے الزامات کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔

کراچی میں سکیورٹی کو چوکس کر دیا گیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکراچی میں سکیورٹی کو چوکس کر دیا گیا

ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تفتیش کے سلسلے میں لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے چار ہزار افراد سے بات چیت کی تھی۔

برطانوی کراؤن پراسیکیوشن سروس نے باضابطہ طور پر پاکستانی حکام سے ان دو افراد کی تلاش کا بھی کہا تھا جو مبینہ طور پر ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں برطانیہ کو مطلوب ہیں۔حال ہی میں ان کی تصاویر بھی جاری کی گئی تھیں۔

لندن میں میٹروپولیٹن پولیس متحدہ قومی موومنٹ کے کئی بینک اکاونٹ منجمد کر کے ٹیکس نہ دینے کے الزامات کے تحت تحقیقات کر رہی تھی۔

ایم کیو ایم ان تمام الزامات سے انکار کرتی ہے لیکن الطاف حسین نے اپنے ایک ٹیلی فونک خطاب میں کہا تھا کہ لندن پولیس نے ان کا جینا حرام کر رکھا ہے۔

الطاف حسین نے حال ہی میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر انھیں گرفتار کیا گیا تو کارکن یاد رکھیں کہ ان کا قائد بےگناہ تھا اور بےگناہ ہے۔