کراچی میں برطانوی قونصلیٹ عارضی طور پر بند

،تصویر کا ذریعہAFP
لندن میں ایم کیو ایم کے رہنما کی گرفتاری کے بعد کراچی میں برطانوی قونصلیٹ کو عارضی طور پر بند کر دیاگیا ہے جبکہ امریکہ نے کراچی میں اپنے قونصل خانے میں ویزہ کی درخواستوں سے متعلق تمام کام کو روک دیا ہے۔
اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو کراچی میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر وہاں محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ امریکہ نے کراچی میں اپنے قونصل خانے ویزہ درخواستوں کا کام وقتی طور پر روک دیا ہے اور اس مقصد کے لیے دی جانے والی تمام تاریخیں منسوخ کر دی ہیں۔
لندن میں متحدہ کے رہنما کی گرفتاری کے بعد پاکستان کے ساحلی شہر کراچی اور حیدرآباد جہاں ایم کیو ایم کا سیاسی غلبہ حاصل ہے، وہاں معمولات زندگی درہم برھم ہو کررہ گئے ہیں اور شہر میں تمام کاروباری سرگرمیاں عملاً معطل ہو چکی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
ایم کیو ایم کے ترجمان فیصل سبزواری نے تصدیق کی ہے کہ لندن میں گرفتار ہونے والا ساٹھ سالہ شخص ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین ہی ہیں۔
الطاف حسین کی گرفتاری کی سنتے ہی کراچی اور حیدرآباد کے کاروباری حضرات نے ایم کیو ایم کی طرف سے ردعمل سامنے کی خدشے کے پیش نظر اپنے کاروباروں کو بند کر گھروں کو روانہ ہو گئے۔
کراچی میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات
کراچی میں برطانوی ہائی کمیشن کے آس پاس پولیس اور رینجرز کی جانب سے غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیےگئے ہیں۔ ماضی میں صرف امریکی سفارتخانے کے باہر اس قسم کے انتظامات نظر آتے تھے لیکن گزشتہ ایک سال میں صورتحال تبدیل ہوگئی۔
برطانوی سفارتخانے کو کنٹینرز کی مدد سے حصار میں رکھا گیا ہے۔ رینجرز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی شعبے کے اہلکارں تعینات کیےگئے ہیں جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی موجود ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
گزشتہ انتخابات میں الطاف حسین نے اپنی تقریر میں سفارتخانے کے قریب ’دو تلوار‘ پر دھرنے پر بیٹھے ہوئے تحریک انصاف کے کارکنوں پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ اگر وہ کہیں تو کارکن چند لمحوں میں انہیں چھلنی کرسکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
الطاف حسین کے بیان کے تحریک انصاف کے کارکنوں نے برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر کے دفتر کے باہر احتجاج کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے الزام میں الطاف حسین کو گرفتار کیا جائے۔
گزشتہ سال ہی سندھ ادیبوں اور شعرا نے بھی برطانوی سفارتخانے کے باہر احتجاج کیا، یہ احتجاج اس وقت سامنے آیا تھا جب الطاف حسین نے سندھ ون اور سندھ ٹو کا فارمولہ پیش کیا تھا۔ سندھی ادیبوں نے بھی الطاف حسین کے خلاف لوگوں کو لڑانے کی سازش کرنے کے الزام میں کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
رواں سال فروری میں ایم کیو ایم کے وفد نے ڈپٹی ہائی کمشنر سے ملاقات کرکے بی بی سی کی دستاویزی فلم پر احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔ ایم کیو ایم کا موقف تھا کہ بی بی سی کی دستاویزی فلم میں ایم کیو ایم کی قیادت پر بے بنیاد الزامات عائد کیےگئے ہیں۔
گزشتہ ماہ کراچی میں الطاف حسین سے اظہار یکہجتی کے لیے احتجاج کیا گیا تھا، جس میں برطانوی حکومت پر بھی تنقید کی گئی تھی۔ یہ احتجاج الطاف حسین کو پاکستانی شناختی کارڈ کا اجرا نہ کرنے کے خلاف کیا گیا تھا۔







