’ملوث کوئی بھی ہو اسے کیفر کردار تک پہنچائیں گے‘

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے صحافی حامد میر، ان کے اہلخانہ اور صحافیوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ قاتلانہ حملے میں جو بھی ملوث ہوا اسے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
پیر کو کراچی میں زیرعلاج حامد میر کی عیادت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے تفتیش جاری ہے اور پولیس بڑی دل جمعی کے ساتھ یہ تفتیش کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یقیناً یہ حکومت اور پولیس کے لیے چیلنج ہے اور ہمیں ملزمان کا سراغ لگانا ہے۔
دریں اثنا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے حامد میر پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی عدالتی کمیشن کی تشکیل کی منظوری دی اور اس کمیشن میں کام کرنے والے ججوں کے نام وزارت قانون کو بھجوا دیے ہیں۔
اس سے پہلے حامد میر نے عیادت کے لیے آئے ہوئے وزیراعظم کو واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے انھیں یقین دہانی کروائی کہ عدالتی کمیشن تشکیل دیا جا رہا ہے اور ملزمان کو گرفتار کر کے کیفرِکردار تک پہنچایا جائے گا۔
کراچی میں آپریشن کے دوران اس نوعیت کا واقعہ پیش آنے پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ افسوسناک واقعہ ہے۔
’آپریشن اپنی جگہ پر جاری ہے اور اس کے اچھے اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں۔ ملک میں مجموعی طور پر ایسی لہر تو پچھلے کئی سالوں سے چل رہی ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے ہم اپنا فرض ادا کر رہے ہیں اور اس میں کوئی کوتاہی نہیں کریں گے۔‘
طالبان سے مذاکرات کے بارے میں وزیراعظم نے انتہائی محتاط انداز میں بات کرتے ہوئے کہا کہ کوشش تو کافی عرصے سے جاری ہے، کبھی کبھی اونچ نیچ بھی ہوجاتی ہے لیکن اپنی طرف سے ہم پورے خلوص کے ساتھ کوشش کر رہے ہیں کہ مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کر لیں، کیونکہ اسی میں سب کی بہتری ہے۔
وزیراعظم نواز شریف کے کراچی پہنچنے پر سکیورٹی حکام نے انھیں شہر میں امن و امان کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
دوسری جانب شاہراہ فیصل پر جائے وقوع پر پولیس کی فورنسک ٹیم نے ملزمان کی پوزیشن، طریقۂ واردات اور فرار ہونے کی معلومات اکٹھی کی ہیں، تاہم واقعے کی ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں ہو سکی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر کے بعد ہی وہ باضابطہ تفتیش شروع کر سکیں گے۔
ادھر سینیٹ، خیبر پختونخوا اسمبلی اور سندھ اسمبلی نے حامد میر پر حملے کی مذمتی قرادادیں منظور کی ہیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے سندھ اسمبلی قرارداد پیش کی تھی، جس کی متحدہ قومی موومنٹ نے بھی حمایت کی۔ قرارداد میں حامد میر کی صحافت اور جمہوریت کے لیے خدمات کو سراہا گیا اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی گئی۔
عدالتی کمیشن کی تشکیل

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے صحافی حامد میر پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی عدالتی کمیشن کی تشکیل کی منظوری دی ہے اور اس کمیشن میں کام کرنے والے ججوں کے نام وزارت قانون کو بھجوا دیے ہیں۔
اسلام آباد سے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سپریم کورٹ کے ان ججوں میں جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس اعجاز افضل خان اور جسٹس اقبال حمید الرحمن شامل ہیں۔
اس کمیشن سے متعلق وزارت قانون جلد نوٹیفکیشن جاری کرے گا جس میں اس کمیشن کے کام کرنے کے طریقۂ کار اور اس کے مینڈیٹ کے بارے میں بھی واضح کیا جائے گا جس میں تمام حکومتی اداروں کو اس کمیشن سے تعاون کرنے کے بارے میں بھی کہا جائے گا۔
اس واقعے کے بعد سیکریٹری داخلہ نے اس کی عدالتی تحقیقات کے لیے کمیشن کے تشکیل کے لیے پاکستان کے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا جس کے تحت عدالتی کمیشن 21 روز میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گا۔ ذرائع کے مطابق یہ کمیشن اس حملے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کرے گا۔
واضح رہے کہ صحافی سلیم شہزاد کے قتل کے مقدمے کی عدالتی تحقیقات کے لیے بھی سپریم کورٹ کے جج ثاقب نثار کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا گیا تھا، تاہم اس کمیشن نے مذکورہ صحافی کے قتل کی ذمہ داری کسی بھی فرد یا تنظیم پر عائد نہیں کی تھی۔
اس واقعے کا مقدمہ اگرچہ اسلام آباد کے ایک مقامی تھانے میں درج کیا گیا تھا۔ تاہم اب اس مقدمے کی کوئی تفتیش نہیں ہو رہی اور پولیس کا کہنا ہے کہ اسے داخل دفتر کر دیا گیا ہے۔







