’صحافیوں کے لیے بدترین ملک‘

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, صبا اعتزاز، طاہر عمران
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
صحافی جب خود خبر بن جائے تو یہ نیک شگون نہیں اور پاکستان میں گذشتہ کئی سالوں سے صحافی مسلسل خبروں میں رہے ہیں۔ کبھی اپنے ساتھیوں کے قتل، کبھی اس کی تحقیقات اور کبھی اس کے نتیجے میں مزید ہلاکتوں کی کوریج کے لیے۔
جب جون 2006 میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے صحافی حیات اللہ کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی تو ان کے بھائی کے مطابق ’جن گولیاں جن سے ان کو مارا گیا تھا وہ عام لوگوں کے پاس دستیاب نہیں ہیں اور ان کو جو ہتھکڑیاں لگی تھیں وہ بھی سرکاری تھیں۔‘
بات حیات اللہ کی گولیوں سے چھلنی لاش تک نہیں رکی بلکہ ان کے بچوں سے ان کی ماں اس وقت چھن گئی جب اس حملے کے کچھ ہی عرصے میں ان کے گھر پر گرینیڈ سے حملہ ہوا جس میں حیات اللہ کی اہلیہ ہلاک ہو گئیں۔
حیات اللہ کی کہانی ان کئی کہانیوں میں سے ایک ہے جو پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ، سرکاری اور سیکورٹی اداروں کی کارروائیوں اور طالبان کے درمیان جاری جنگ کے نتیجے میں سامنے آئی ہیں۔
ان الجھے ہوئے حالات اور غیر واضح صورتِ حال میں اکثر درست اور غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کی قیمت صحافی اپنے خون سے ادا کرتے ہیں۔ ستم یہ ہے کہ قانون کے آہنی ہاتھ کبھی قاتلوں تک نہیں پہنچتے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بہت سے دوسرے صحافیوں کے قتل کی طرح حیات اللہ کے قاتلوں کی نشاندہی کبھی نہیں ہوئی اور کیس داخل دفتر کر دیا گیا اور اس کے بچے نے خود ہی اپنے تسمے باندھنے سیکھ لیے۔
اس صورتِ حال میں بالکل حیرت نہیں ہوتی جب صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی ایک رپورٹ میں پاکستان کو دنیا میں صحافیوں کے لیے بدترین ملک قرار دیا جاتا ہے جہاں صحافیوں کو کسی قانونی گرفت کے خطرے سے بالاتر نشانہ بنایا جاتا ہے۔
گذشتہ ایک دہائی میں 20 سے زیادہ صحافیوں کے قتل کے باوجود اس سال مارچ تک کسی ایک کے قاتل بھی کیفرِ کردار تک نہیں پہنچے تھے اور تین سال پر محیط ایک طویل قانونی جنگ، گواہوں اور تفتیشی افسروں کے قتل کے بعد یکم مارچ کو بالآخر جیو نیوز کے صحافی ولی خان بابر کے مقدمۂ قتل کا فیصلہ تو ہو گیا مگر ان کے قاتل جنھیں سزائے موت سنائی گئی ہے، وہ مفرور اور ان کے رشتہ دار خوف کے مارے اب بھی روپوش ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس فیصلے کے کچھ ہی دن بعد ولی خان بابر کے وکیل عبدالمعروف خان کے گھر پر ایک بار پھر حملہ کیا گیا اور ماضی کی طرح طفل تسلیوں کے بعد وہ ایک بار پھر حملہ آوروں کے رحم و کرم پر ہیں۔
وزیراعظم نواز شریف نے صحافیوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کا وعدہ تو کیا ہے مگر صحافیوں پر بلا خوف و خطر حملے جاری ہیں اور حکومت تسلیم کرتی ہے کہ اسے اپنے وعدے کی تکمیل میں مسائل کا سامنا ہے۔
مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والی رکنِ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی انفارمیشن کمیٹی کی رکن ماروی میمن کہتی ہیں: ’صحافی زیادہ نشانے پر ہیں اور خطرناک حالات کا زیادہ سامنا کرتے ہیں روزانہ کی بنیاد پر لمحہ بہ لمحہ۔‘
ماروی کے مطابق ان کی جانب سے تجویز کیے گئے منصوبے پر انھیں ’صوبوں کی طرف سے ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔‘
وزیراعظم کے اس وعدے کے چند دن بعد ہی ایکسپریس نیوز کے اینکر رضا رومی اپنے آخری شو کی ویڈیو دیکھ رہے ہیں جس میں انھوں نے صوبہ پنجاب میں کالعدم شدت پسند گروہوں کی موجودگی کی بات کی تھی۔
کیا یہ پروگرام یا ان کے اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے خیالات اور کام لاہور شہر میں دن دیہاڑے حملے کی وجہ بنا جب چھ مسلح افراد نے ان کی کار پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی؟
رضا رومی کہتے ہیں کہ اس ساری صورتِ حال میں حکومت ہی نہیں معاشرہ بھی ذمہ دار ہے: ’امپیونٹی اس صورت میں موجود ہے جب چھوٹے بچوں کے سکول دھماکے سے اڑائے جاتے ہیں، جب ایک لڑکی ملالہ کے سر میں گولی ماری جاتی ہے تو اس میں صرف ریاست نہیں بلکہ معاشرہ بھی ملوث ہے کیونکہ معاشرہ منقسم ہے۔‘
رضا رومی کا ڈرائیور مصطفیٰ ان پر اس حملے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ حملے کی تحقیقات جاری ہیں مگر ان سے زیادہ کی امید نہیں ہے کیونکہ بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ پاکستانی حکمران یا اس تشدد کو روک نہیں سکتے یا پھر روکنا چاہتے ہی نہیں۔
تو کیا صحافیوں کے بلا خوف خطر نشانہ بنائے جانے اور قتل کے پیچھے حکومت کی عدم دلچسپی ہے یا غیر رضامندی ہے؟
رضا رومی کا خدشہ ہے کہ یہ دونوں ہیں۔
میڈیا کے کئی اداروں جیسا کہ بی بی سی اور ایکسپریس نیوز کو پاکستانی طالبان کھلم کھلا دھمکیاں دیتے ہیں اور ان کے خیالات کی مخالفت کرنے پر بدترین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہیں۔
کئی پاکستان صحافتی حلقے کھلم کھلا یہ بات کہتے ہیں کہ تشدد اور دباؤ کے نتیجے میں رپورٹنگ کے درست معیارات پر کافی حد تک سمجھوتہ کیا جا چکا ہے جس کے نتیجے میں اکثریت تک حقائق پہنچنے کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
مسئلہ یہ ہے کہ پیشہ ور صحافیوں کے لیے کام کرنے کے حالات بہت مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتے جا رہے ہیں۔
رضا جس مخمصے کا شکار ہیں اس میں وہ اکیلے نہیں بلکہ بہت سے اور بھی ہیں: ’میں دوہری مشکل کا شکار ہوں، اپنا کام جاری رکھوں، کیا میرا کام اتنا اہم ہے؟ میرا خاندان بھی ہے اور میں زندہ رہنا چاہتا ہوں، میں شہید نہیں بننا چاہتا کیونکہ پاکستان میں پہلے ہی بہت سارے شہید ہیں۔ میں زندہ رہنا چاہتا ہوں۔‘
ان سب حالات میں قانون کی آہنی ہاتھوں کی گرفت سے آزاد قاتلوں کے رحم و کرم پر پاکستانی صحافیوں کی زندگی اب کئی قسم کے خطرات میں الجھ کر رہ گئی ہے۔
ٹرائبل یونین آف جرنلسٹ کے صفدر داور کے مطابق: ’صحافی شدت پسندی اور فوج کے درمیان سینڈوچ بن کے رہ گئے ہیں۔ ایک کہتا ہے میری رپورٹنگ کرو، دوسرا کہتا ہے میری رپورٹنگ کرو۔ گذشتہ سالوں میں ذاتی طور پر میں نے پانچ ساتھیوں کے جنازے اٹھائے ہیں۔ اس کے باوجود بھی باقاعدہ ٹی ٹی پی کی طرف سے یا نامعلوم فون نمبروں سے دھمکیاں موصول ہوتی ہیں کہ آپ نے احتجاج نہیں کرنا۔‘
پاکستانی صحافی اگر ریاست کی اندھی گولی سے بچتے ہیں تو دہشت گردوں کے نشانے پر آ جاتے ہیں کیونکہ ریاست اور قانون دونوں اس بات میں دلچسپی نہیں رکھتے کہ قاتلوں کا سراغ لگایا جائے۔
اس صورتِ حال کے نتیجے میں غیر یقینی اور عدم تحفظ صحافیوں کے ذہنوں کا جزوِ لازم بن چکا ہے۔







