ولی بابر قتل کیس: دو ملزمان کو سزائے موت، چار کو عمر قید

ولی خان بابر

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنولی بابر مقدمے کے چشم دید گواہ اور تفتیشی افسر سمیت چھ افراد کو بھی نشانہ بناکر قتل کیا گیا

پاکستان کے صوبہ سندھ میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے صحافی ولی بابر کے قتل کیس میں دو مفرور ملزمان کو سزائے موت جبکہ چار ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

شکارپور ڈسٹرکٹ جیل میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے واقعے کے تین سال بعد سنیچر کو فیصلہ سنایا، یہ مقدمہ کراچی میں زیر سماعت تھا، جہاں سے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اسے شکارپور منتقل کیا گیا تھا۔

خصوصی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے مفرور ملزمان کامران عرف ذیشان اور فیصل موٹا کو سزائے موت جبکہ چار گرفتار ملزمان فیصل محمود عرف نفسیاتی، نوید عرف پولکا، محمد علی رضوی اور شاہ رخ عرف مانی کو عمر قید کی سزا سنائی جبکہ ثبوتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے شکیل کو بری کردیا گیا۔

جیو نیوز سے منسلک نوجوان صحافی ولی بابر کو تیرہ جنوری دو ہزار گیارہ کو اس وقت لیاقت آباد سپر مارکیٹ کے مقام پر گولیاں مارکر ہلاک کیا گیا تھا جب وہ اپنے دفتر سے کار میں گھر جا رہے تھے۔

اس مقدمے سے جڑے چھ افراد کو بھی ہدف بنا کر قتل کیا گیا ہے، جن میں پبلک پراسیکیوٹر نعمت اللہ رندھاوا، دو پولیس کانسٹیبل، انسپیکٹر شفیق تنولی کے بھائی نوید خان، پولیس مخبر رجب بنگالی اور چشم دید گواہ حیدر علی شامل ہیں۔

گذشتہ سال سندھ حکومت نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو مقدمہ کراچی سے باہر منتقل کرنے کی گذارش کی تھی، جس کے بعد اس کو کندھ کوٹ کی خصوصی عدالت میں منتقل کیا گیا۔ جج نے ڈسٹرکٹ جیل میں مقدمے کی سماعت کی۔

سنیچر کو مقدمے کے فیصلے کے موقعے پر عدالت کے اندر اور باہر غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے، پولیس کے ساتھ ایف سی اہلکار بھی تعینات رہے قیدیوں سے ملاقات پر بھی پابندی عائد رہی۔