بلوچستان:پولیو ٹیم کا محافظ اہلکار ہلاک

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
صوبہ بلوچستان کے ضلع لورالائی میں جمعرات کو نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پولیوٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا ہے جبکہ کچلاک کے علاقے سے دو تشدد زدہ لاشیں برآمد ملی ہیں۔
ادھربلوچستان کے بلوچ آبادی علاقوں میں جمعرات کو علیحدگی پسند تنظمیوں کی کال پر ہڑتال بھی رہی۔
لورلائی کے ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کو فون پر بتایا کہ ہلاک ہونے والا پولیس اہلکار شہر کے علاقے اربسین میں دو خواتین پر مشتمل پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور تھا۔
انھوں نے کہا کہ اس علاقے میں جب دونوں خواتین کارکن بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے ایک گھر میں داخل ہوئیں تو نامعلوم افراد نے گھر سے باہر کھڑے پولیس اہلکار پر فائرنگ کرکے اسے ہلاک کر دیا۔
مقامی صحافی پیر محمد کاکڑ نے اس واقعے کے بارے میں بی بی سی کو بتایا کہ’ اربسین میں تین نامعلوم افراد نے پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور محمدزئی نامی پولیس اہلکار کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا۔‘
انھوں نے کہا کہ فی الحال کسی نے بھی اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔
پولیس اہلکار کو سات گولیاں لگیں جبکہ حملہ آور فرار ہوتے ہوئے ہلاک ہونے والے پولیس ہلکار کا اسلحہ بھی ساتھ لے گئے۔
خیال رہے کہ بلوچستان میں پولیو ٹیمیں پہلے بھی حملوں کی زد میں رہی ہیں لیکن لورلائی میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر کوئٹہ شہر کے قریب کچلاک کے علاقے میں دو افراد کی تشدد زدہ لاشیں ملی ہیں۔ کچلاک کے ایک پولیس اہلکار کے مطابق دونوں لاشیں ایک برساتی نالے سے ملیں جنھیں نامعلوم افراد نے سر اور سینے میں گولیاں ماری تھیں۔
لاشوں کی شناخت ابھی تک نہیں ہوئی لیکن پولیس کے مطابق شکل و شباحت سے دونوں لاشیں افغان باشندوں کی معلوم ہوتی ہیں جن کی عمریں 21 اور 22 سال کے درمیان ہیں۔
دریں اثنا بلوچ سالویشن فرنٹ اور دیگر علیحدی پسند تنظیموں کی کال پر بلوچستان کے مکران اور قلات ڈویژنوں کے اکثر علاقوں میں جمعرات کو شٹر ڈاؤن ہڑتال بھی رہی۔
ہڑتال کی کال علیحدگی پسند تنظیموں کے بقول 27 مارچ سنہ 1948 کو بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ جبری الحاق کے خلاف دی گئی تھی۔







