بلوچستان: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے صحافی ہلاک

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک اور صحافی ہلاک ہو گیا ہے۔ ہلاک کیے جانے والے صحافی افضل خواجہ کا تعلق ضلع جعفر آباد کے علاقے اوستہ محمد سے تھا۔ وہ کوئٹہ سے شائع ہونے بلوچستان کے اردو اخبار رونامہ زمانہ سے وابستہ تھے۔
اوستہ محمد پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ افضل خواجہ بلوچستان سے متصل سندھ کے شہر جیکب آباد سے ایک گاڑی میں واپس اوستہ محمد آ رہے تھے کہ انہیں کیٹل فارم کے علاقے میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے گاڑی کے ڈرائیور سمیت ہلاک کر دیا۔
پولیس اہلکار نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کے مطابق صحافی کو ہلاک کرنے کے لیے تین اطراف سے فائرنگ کی گئی۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ صحافی کو ہلاک کرنے کے محرکات معلوم نہیں ہوسکے لیکن ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں ہدف بناکر قتل کیا گیا ہے۔ پولیس نے صحافی اور گاڑی کے ڈرائیور کی ہلاکت کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے۔
افضل خواجہ بلوچستان میں رواں سال ہلا ک کیے جانے والے پہلے صحافی ہیں۔ بلوچستان 2007 سے صحافیوں کے لیے ایک خطرناک علاقہ بن چکا ہے۔ اب تک بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں صحافیوں کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا ہے۔
بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر عرفان سعید کا کہنا ہے کہ2007 سے اب تک بلوچستان میں تشدد کے مختلف واقعات میں مجموعی طور پر 32 سے زیادہ صحافی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان میں سے 27 صحافیوں کو ہدف بناکر ہلاک کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے گزشتہ ماہ صحافیوں کی ہلاکت کے بارے میں تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔



