امن مذاکرات کے لیے بنوں اور میران شاہ زیرِغور:پروفیسر ابراہیم

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
حکومتِ پاکستان سے مذاکرات کرنے والی طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے رکن اور جماعتِ اسلامی خیبر پختونخوا کے صدر پروفیسر ابراہیم نے کہا ہے کہ طالبان اور حکومتی کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات کے لیے بنوں ایئرپورٹ، ایف آر بنوں اور وزیرستان کے علاقوں پر غور ہو رہا ہے۔
پروفیسر ابراہیم اس کمیٹی میں شامل تھے جس نے دو روز پہلے شمالی وزیرستان میں طالبان شوریٰ سے ملاقات کی تھی۔
اتوار کو پشاور میں آج ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ طالبان شوریٰ کے ساتھ ملاقات میں مذاکرات کے لیے مقام کے تعین اور غیر عسکری قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر بات ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک تجویز یہ سامنے آئی تھی کہ حکومتی کمیٹی اور طالبان کے درمیان مذاکرات وزیرستان کے محسود قبائل کے علاقے میں ہونے چاہییں جہاں فریقین کو رسائی میں آسانی ہوگی۔
ان کے مطابق طالبان کا یہ موقف تھا کہ جنوبی وزیرستان کے محسود علاقوں سے فوج چلی جائے اور پھر وہاں مذاکرات کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مذاکرات کے لیے تین مقامات زیرِغور ہیں جن میں خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں کا ایئرپورٹ ، شمالی وزیرستان کے ساتھ منسلک ایف آر بنوں کا علاقہ اور شمالی وزیرستان کا صدر مقام میران شاہ شامل ہیں۔
پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ طالبان کا کہنا تھا کہ وہ جنگ بندی کے اعلان پر قائم ہیں جبکہ انہوں نے پشاور میں سربند اور کوئٹہ کے دھماکوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ احرار الہند نامی تنظیم کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق حکومت اگر احرارالہند نامی تنظیم کے مرکز پر حملہ کرتی ہے تو طالبان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ حکومت اور طالبان کے درمیان اعتماد سازی کا فقدان ہے جبکہ خفیہ ہاتھ ان مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے سرگرم ہیں۔
پروفیسر ابراہیم نے بتایا کہ طالبان نے ملاقات کے دوران ان بچوں ، خواتین اور بوڑھے افراد کی فہرست فراہم کی ہے جو بقول ان کے اس وقت حکومت کی تحویل میں ہیں اور طالبان کا کہنا ہے کہ ان افراد کو حکومت رہا کردے ۔
انھوں نے کہا کہ یہ تجویز پہلے بھی ارباب اختیار کے سامنے رکھی گئی تھی لیکن اس پر کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا تھا ۔ انھوں نے کہا کہ طالبان نے کہا کہ وہ ایسے شواہد فراہم کر سکتے ہیں جن سے ثابت ہو گا کہ خاتون بچے یا بوڑھے کہاں سے کب لاپتہ ہوئے اور اب انھیں کہا رکھا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ طالبان نے ان افراد کی رہائی کو مطالبات یا شرائط میں شامل نہیں کیا بلکہ ان کا کہنا تھا کہ یہ خیرسگالی کے طور پر اقدامات ہو سکتے ہیں اس لیے ان سے مذاکرات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور اگر ان تجاویز پر عمل درآمد نہیں ہوتا پھر بھی مذاکرات جاری رہیں گے۔
پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ انھوں نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اجمل خان کی بازیابی کے لیے بھی طالبان سے بات چیت کی ہے ۔







