غداری مقدمہ: مشرف کو طلب کرنے کا فیصلہ برقرار

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو 14 مارچ کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم برقرار رکھا ہے۔
جمعرات کی صبح پرویز مشرف کے وکیل انور منصور نے مقدمے کی سماعت کے دروان عدالت کو درخواست کی کہ ان کی طبعیت کی ناسازی کی وجہ سے وہ غداری مقدمے میں چیف پراسیکیوٹر کی تعیناتی اور ملزم کی طرف سے دائر دیگر درخواستوں پر دلائل نہیں دے سکتے جس پر عدالت نے کہا کہ وہ کسی کو دلائل دینے پر مجبور نہیں کر سکتی اور وہ جتنا وقت لینا چاہتے ہیں لے لیں۔
انور منصور نے عدالت سے یہ بھی درخواست کی کہ جمعہ یعنی 14 مارچ کو پرویز مشرف کی پیشی کو بھی اگلے ہفتے تک مؤخر کیا جائے جس پر عدالت نے کہا کہ 14 مارچ کو پرویز مشرف کی پیشی کو ملتوی نہیں کیا جا سکتا اور انھیں عدالت میں پیش ہونا پڑے گا۔
اس کے بعد اس مقدمے کی سماعت ختم ہو گئی۔اطلاعات کے مطابق جمعرات ہی کو خفیہ اداروں کے اہکارو ں نے خصوصی عدالت کے ججوں کو سندھ ہاؤس اسلام آباد میں پرویز مشرف پر ہونے والے ممکنہ حملے کے بارے میں جاری سکیورٹی الرٹ کے حوالے سے ان کیمرہ پریفینگ دی۔
ذرائع کے مطابق اس موقع پر وزارتِ داخلہ کے حکام بھی موجود تھے۔ وزارتِ داخلہ کے ذرائع کے مطابق خفیہ اداروں کے اہکاروں نے پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کے لیے بنائی گئی خصوصی عدالت کے ججوں کو بتایا کہ انھوں نے ایک ٹیلی فون کال انٹر سیپٹ کی یا سنی جس میں پرویز مشرف پر حملے کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔
وزارتِ داخلہ کے ذرائع کے مطابق یہ کال پاکستان کے قبائلی علاقوں سے کی گئی تھی لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کال کہاں اور کس کو کی جا رہی تھی۔
خیال رہے کہ خصوصی عدالت نے بدھ کو اُس خفیہ ادارے کے سربراہ کو 13 مارچ کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا جس نے عدالت میں پیشی کے موقع پر پرویز مشرف کے خلاف ہونے والے ممکنہ حملے سے متعلق وزارت داخلہ کے ادارے نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کو خفیہ رپورٹ بجھوائی تھی۔
لیکن جعرات کو خصوصی عدالت کے سامنے کسی خفیہ ادارے کا سربراہ پیش نہیں ہوا بلکہ خفیہ ادروں کے اہلکاروں نے ججوں کو بریفنگ دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ غداری کے مقدمے پراسیکیوٹر ٹیم میں شامل طارق حسن نے بدھ کو خصوصی عدالت کو بتایا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان نے اس بات کی تردید کی تھی کہ اُنھوں نے پرویز مشرف پر حملے کی کوئی دھمکی دی تھی اور یا کہ جنگ بندی کے دوران کوئی حملہ کیا جائے گا۔







