سکیورٹی وجوہات کی بنا پر مشرف کا عدالت میں پیش ہونے سے انکار

فیصل چوہدری نے کہا کہ غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت بھی محفوظ مقام پر نہیں ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنفیصل چوہدری نے کہا کہ غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت بھی محفوظ مقام پر نہیں ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے وکلا نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں امن وامان کی تشویش ناک صورت حال کے پیش نظر اُن کے موکل غداری کے مقدمے میں خصوصی عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔

یاد رہے کہ غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے سابق فوجی صدر کو 11 مارچ کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے رکھا ہے اور ممکنہ طور پر اُس روز اُن پر فردِ جُرم عائد کی جائے گی۔

<link type="page"><caption> ’مشرف پر مقدمہ فوجی نہیں، خصوصی عدالت میں چلے گا‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/02/140221_musharaf_treason_case_in_special_court_rk.shtml" platform="highweb"/></link>

منگل کے روز جب سابق صدر کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت ابھی شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ پرویز مشرف کے وکلا نے خصوصی عدالت کے رجسٹرار کو درخواست دی تھی کہ پیر کے روز اسلام آباد میں ہونے والے واقعہ کے خلاف احتجاج کے طور وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہو رہے اس لیے اس مقدمے کی سماعت ملتوی کر دی جائے۔

پرویز مشرف کی وکلا ٹیم میں شامل فیصل چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کے روز اسلام آباد کی ضلع کچہری میں ہونے والے واقعے کے خلاف وکلا نے سات روز کے سوگ کا اعلان کر رکھا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت بھی محفوظ مقام پر نہیں ہے اور اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ شدت پسند اس جگہ بھی پہنچ سکتے ہیں جہاں پر خصوصی عدالت کام کر رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا ایسے حالات میں وہ اپنے موکل عدالت میں پیش کر کے اُن کی جان کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے کیونکہ پرویز مشرف کو پہلے ہی سے سکیورٹی کے شدید خطرات لاحق ہیں۔

فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے عدالت میں ایک درخواست بھی دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پرویز مشرف کی وکلا ٹیم میں شامل ہر رکن کو مناسب سکیورٹی بھی فراہم کی جائے کیونکہ خوف کے سائے میں وہ دلائل نہیں دے سکتے۔

سابق صدر کی وکلا ٹیم کے رکن کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے خصوصی عدالت میں یہ بھی درخواست دی ہے کہ عدالت پہلے ججوں کے تعصب اور اس مقدمے میں وکیل استغاثہ کی تقرری سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ دے جس کے بعد وہ پرویز مشرف کو طلب کرنے سے متعلق فیصلہ دے سکتی ہے۔

فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ ان درخواستوں پر فیصلے سے قبل سابق فوجی صدر کو طلب کرنا عدالت کی طرف سے اختیارات سے تجاوز کرنے کے مترادف ہے۔

عدالت نے اس مقدمے کی سماعت پانچ مارچ تک کے لیے ملتوی کر دی۔