’اٹھارہ فروری کو پیش ہوں ورنہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری‘

عدالت نے پرویز مشرف کے ضامن میجر جنرل ریٹائرڈ راشد قریشی کو بھی 18 فروری کو طلب کر لیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعدالت نے پرویز مشرف کے ضامن میجر جنرل ریٹائرڈ راشد قریشی کو بھی 18 فروری کو طلب کر لیا ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کو مہلت دیتے ہوئے انھیں 18 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ عدم تعمیل کی صورت میں ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں گے۔

عدالت نے 31 جنوری کے اپنے حکم نامے میں پرویز مشرف کو سات فروری کو پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ ملزم پرویز مشرف نے جمعے کو عدالت میں پیش نہ ہونے کی کوئی معقول وجہ نہیں بتائی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ سابق صدر کے وکیل انور منصور کی یقین دہانی پر پرویز مشرف کو 18 فروری کو پیش ہونے کی مہلت دی ہے۔

عدالت نے پرویز مشرف کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری میں ان کے ضامن میجر جنرل ریٹائرڈ راشد قریشی کو بھی 18 فروری کو طلب کر لیا ہے جب کہ اس مقدمے کی سماعت دس فروری کو ہوگی۔

اس دن پرویز مشرف کی وکلا ٹیم میں شامل ڈاکٹر خالد رانجھا اپنے موکل کے تین نومبر سنہ 2007 کے اقدام کو خصوصی عدالت میں چلانے کی بجائے فوجی عدالت میں چلانے سے متعلق دلائل دیں گے۔

اس سے پہلے خصوصی عدالت نے کہا کہ اگر ملزم عدالت میں پیش ہوجاتے اور عدالت سے استدعا کرتے کہ عدالت کی تشکیل اور اس کے دائرۂ سماعت سے متعلق دائر درخواستوں پر فیصلہ ہونے تک ان پر فرد جرم عائد نہ کی جائے تو عدالت اس پر غور کرسکتی تھی۔

خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب کا کہنا تھا کہ نہ پرویز مشرف اور نہ ہی ان کے ضامن عدالت میں پیش ہوئے۔

اس مقدمے کے چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ عدالت اپنے 31 جنوری کے حکم نامے میں ملزم پرویز مشرف کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے سے متعلق فیصلہ دے چکی ہے اور اب عدالت اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی۔

<link type="page"><caption> غداری کے مقدمے میں مشرف کے وارنٹ جاری</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/01/140131_musharraf_special_court_bailable_warrant_rh.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> وارنٹ کی تعمیل، مشرف نے وارنٹ گرفتاری وصول کیے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/02/140203_musharraf_warrant_served_afic_rh.shtml" platform="highweb"/></link>

چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے کہا کہ پرویز مشرف عدالتی فیصلے کا احترام نہیں کر رہے اور وہ عدالت میں پیش نہ ہونے کا بہانہ ڈھونڈتے ہیں۔

پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ وہ 18 فروری کو پرویز مشرف کو عدالت میں پیش کر دیں گے۔

پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ عدالت ملزم کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرے جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ملکی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے اس لیے عدالت کو بھی اس معاملے میں بڑی احتیاط سے کام لینا ہوگا۔

جنرل مشرف کی آمد کے لیے سینکڑوں پولیس اور سکیورٹی اہل کار تعینات کیے گئے تھے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنجنرل مشرف کی آمد کے لیے سینکڑوں پولیس اور سکیورٹی اہل کار تعینات کیے گئے تھے

ملزم پرویز مشرف کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر چیف پراسیکیوٹر نے کمرۂ عدالت کے باہر پولیس افسران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے وہ تصدیق کر لیا کریں کہ آیا پرویز مشرف عدالت میں پیش ہو رہے ہیں یا نہیں پھر اس کے بعد روٹ لگایا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ گیارہ سو سے زائد پولیس اہل کار تعینات کیے جاتے ہیں جو کہ سرکاری خزانے پر بوجھ ہے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد پولیس نے پرویز مشرف کی خصوصی عدالت میں متوقع پیشی کے پیشِ نظر موقع پر دو روٹ لگائے تھے جن پر گیارہ سو سے زیادہ اہل کار تعینات کیے گئے تھے۔

عدالت پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق چار بجے کے قریب ملزم پرویز مشرف کو حاضری سے مستثنیٰ قرار دینے سے متعلق فیصلہ سُنائے گی۔

اس سے قبل آج بھی سابق صدر پیش نہیں ہوئے جبکہ ان کے وکلا نے غداری کے مقدمے کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کی تشکیل اور ججوں کے تعصب پر مبنی رویے سے متعلق دلائل دیے۔

آج کی سماعت کے موقعے پر پرویز مشرف کے وکلا کی جانب سے ان کی حاضری کے استثنیٰ کی درخواست دی گئی۔

جنرل مشرف کے وکلا نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ تمام درخواستوں پر فیصلہ سنانے تک کوئی حکم جاری نہ کرے۔

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جولائی 2009 کو دیے گئے فیصلے میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف کسی کارروائی کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے میں صرف تین نومبر کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا۔

پرویز مشرف کے وکیل انور منصور نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ بہت سے اقدامات کو غیر آئینی قرار دیتی ہے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ان قدامات کے کرنے والوں کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے۔

انور منصور نے یہ بھی کہا کہ سماعت کرنے والے موجودہ بینچ میں موجود ججوں سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ 31 جولائی کے فیصلے سے متاثر ہیں۔

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ انہیں اس بینچ سے انصاف ملنے کی امید نہیں ہے اور نہ ہی انہیں امید ہے کہ اس بینچ سے انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے۔

جسٹس فیصل عرب نے انور منصور سے کہا کہ اگر آپ کی بات مان بھی لی جائے کہ جج 31 جولائی کے فیصلے سے متاثر ہوئے ہیں اور ہم میں سے کوئی اس مقدمے کی سماعت سے ہٹ بھی جائے تو بھی یہ مقدمہ اپنی جگہ موجود رہے گا۔

انور منصور نے مزید کہا کہ آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی موجودہ حکومت کے سربراہ اور ان کے موکل کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے عمل میں لائی گئی ہے جس کا واضح ثبوت ہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس مقدمے کی سماعت کے قیام کے لیے حکومت کو جو نام بھیجے تھے، حکومت نے سوچے سمجھے بغیر ججوں کے اس بینچ کے لیے تقرر کا نوٹیفیکشن جاری کر دیا۔

انور منصور کا کہنا تھا کہ ان ناموں میں ان ججوں کے نام شامل کیے گئے ہیں جو ان کے خیال میں مشرف کے خلاف یہ مقدمہ سننے میں دلچسپی رکھتے تھے۔

اس کے علاوہ مقدمے کی سماعت کے آغاز پر کیپٹن ریٹائرڈ الیاس نے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کی رپورٹ پیش کی۔