غداری کے مقدمے میں مشرف کے وارنٹ جاری

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی بیرونِ ملک علاج کروانے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے اُن کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
جمعہ کی شام پرویز مشرف کی میڈیکل رپورٹ کے بارے میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ اس رپورٹ میں ایسی کوئی بات نہیں کہی گئی کہ مشرف عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔
عدالت نے اپنے حکم نامے میں اسلام آباد پولیس کے سربراہ سے کہا ہے کہ وہ عدالتی احکامات کی تعمیل کروائیں اس کے علاوہ ملزم پرویز مشرف کو آئندہ سماعت یعنی سات فروری کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
پرویز مشرف کی وکلاء ٹیم میں شامل فیصل چوہدری کا کہنا ہے کہ سابق صدر کے عدالت میں پیش ہونے کا فیصلہ سات فروری کو ہی کیا جائے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ عدالت کی طرف سے جاری کیے گئے قابل ضمانت ورانٹ پر کسی بھی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاتی۔ اُنھوں نے کہا کہ 25 لاکھ کے ضمانتی مچلکے خصوصی عدالت میں ہی جمع کروائے جائیں گے۔
جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں خصوصی عدالت نے فیصلہ سُناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ملزم کو علاج کروانے سے نہیں روکا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ مشرف نے عدالت میں پیش نہ ہونے سے متعلق مناسب جواز عدالت میں پیش نہیں کیا۔
عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ مشرف کا نام ای سی ایل میں پہلے سے ہی موجود ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے سندھ ہائی کورٹ سابق فوجی صدر کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق درخواست پہلے ہی مسترد کرچکی ہے۔
اس سے پہلے مقدمے سابق صدر کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کے دوران چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے اے ایف آئی سی کے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر 13 اعتراضات اُٹھائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُن کا کہنا تھا کہ بورڈ کی اس رپورٹ کے ساتھ ملزم پرویز مشرف کے میڈیکل ٹیسٹ نہیں لگائے گئے اور یہ رپورٹ محض کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے۔
اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس فیصل عرب کا کہنا ہے کہ عدالت یہ نہیں دیکھ رہی کہ اینجیو گرافی کیا ہوتی ہے اور کتنے عرصے میں علاج شروع کیا جانا چاہیے بلکہ عدالت یہ دیکھے گی کہ کیا پرویز مشرف نے اس پر رپورٹ پر اثرانداز ہونے کی کوشش تو نہیں کی۔
پرویز مشرف کے وکیل انور منصور کا کہنا تھا کہ پراسیکیوٹر نے اس رپورٹ پر اعتراضات کے ساتھ ایک امریکی ڈاکٹر اسماعیل بخاری کی رائے بھی شامل کی ہے جنہوں نے پرویز مشرف کا معائنہ کیے بغیر ہی یہ کہہ دیا کہ اُن کی بیماری اتنی سنجیدہ نہیں ہے۔ بعدازاں اکرم شیخ نے پرویز مشرف کی صحت سے متعلق امریکی ڈاکٹر کی رائے پر مبنی رپورٹ واپس لے لی۔
چیف پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ اگر عدالت میڈیکل بورڈ کی اس رپورٹ پر انحصار کرتی ہے تو پھر اس رپورٹ کو ملک کے دوسرے بڑے ہسپتالوں کے دل بیماری کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں پر مشتمل ایک بورڈ تشکیل دیا جائے تاکہ وہ اس رپورٹ کا جائزہ لے سکیں۔
پرویز مشرف کے وکیل نے اپنے موکل کے استثنیٰ کے لیے عدالت سے درخواست کی تاہم اکرم شیخ نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ استثنی دینا عدالت کا اختیار نہیں ہے۔
فوجداری مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل سردار اسحاق نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس ملزم کی گرفتاری ضرور ڈالے گی چاہے وہ علامتی ہی کیوں نہ ہواور اگر ملزم اس بات کی ضمانت دے کہ وہ ضمانتی رقم جمع کروائیں گے اور وہ اگلی سماعت پر عدالت میں پیش ہوں گے تو پھر پولیس اُنھیں پابند کر کے رہا بھی کر سکتی ہے۔
سردار اسحاق کا کہنا تھا کہ پولیس اس تمام کارروائی کو ریکارڈ پر ضرور لائے گی اور عدالت کو اس بارے میں آگاہ بھی کرے گی۔ سردار اسحاق کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ کیا اے ایف آئی سی کے ذمہ داران اس عدالتی حکم کی تعمیل کے لیے پولیس کو ہستپال میں داخل ہونے دیں گے۔







