غداری مقدمہ:مشرف پیش ہوگئے مگر فردِ جرم عائد نہ ہو سکی

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف اپنے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت میں پیش ہوگئے ہیں تاہم ان پر اس معاملے میں فردِ جرم عائد نہیں کی گئی ہے۔
منگل کو سماعت کے موقع پر پرویز مشرف کے وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ خصوصی عدالت کے دائرہ کار اور مقدمے کی فوجی عدالت میں منتقلی کی درخواستوں پر فیصلے تک ملزم پر غداری کے مقدمے میں فردِ جرم عائد نہ کرے۔
اس پر خصوصی عدالت نے کہا ہے کہ ان دونوں معاملات پر فیصلہ 21 فروری کو سنایا جائے گا اور اسی روز پرویز مشرف کی آئندہ سماعت پر عدالت میں پیشی سے متعلق بھی فیصلہ ہوگا۔
جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں خصوصی عدالت کا تین رکنی بینچ مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔
سماعت کے دوران چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت آج پرویز مشرف پر فردِ جرم عائد کر دے اور اس کے بعد اگر ملزم کو آئندہ تاریخوں پر پیشی سے استثنٰی دے بھی دے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں۔
بینچ کے سربراہ جسٹس فیصل عرب نے بھی اس خیال کی تائید کی اور پرویز مشرف کے وکیل انور منصور سے کہا کہ ’عدالت چارج شیٹ پڑھ کر سنا دے گی اور عدالت کے دائرہ کار سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوتی رہے گی۔‘
تاہم پرویز مشرف کے وکلا نے اس پر احتجاج کیا اور کہا کہ خصوصی عدالت کے اختیار سے متعلق درخواست پر فیصلے سے قبل فرد جرم نہ سنائی جائے۔
پرویز مشرف کے وکیل انور منصور خان کے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے جس کے تحت اُن کے موکل پر فرد جُرم عائد کی جاسکے۔ اُنھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ ایسے شخص کو سزا دے گی جو غداری کا مرتکب ہوا ہو۔ انور منصور کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ اس ضمن میں ایک علیحدہ قانون بنائے گی جس کے تحت کسی ملزم کو سزا دی جاسکے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب نے پرویز مشرف کے وکیل سے استفسار کیا کہ اگر کوئی شہری غداری کا مرتکب ہو تو کیا اُس کے خلاف مقدمہ بھی فوجی عدالت میں ہی چلے گا جس پر انور منصور کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل کے خلاف مقدمہ تین نومبر 2007 کے نام نہاد اقدام سے متعلق بنایا گیا ہے اور اس وقت پرویز مشرف وردی میں تھے اس لیے ایک فوجی افسر کا مقدمہ فوجی عدالت میں ہی چلے گا۔
اس پر عدالت نے مشاورت کے بعد کہا کہ خصوصی عدالت کے دائرہ کار اور مقدمے کو فوجی عدالت میں منتقل کیے جانے سے متعلق فیصلہ جمعے کو سنایا جائے گا۔
اس سے پہلے سماعت کے آغاز پر پرویز مشرف کی پیشی سے متعلق متضاد اطلاعات سامنے آتی رہیں۔
پہلے تو ان کے کیل انور منصور نے عدالت کو یقین دلایا کہ پرویز مشرف ہر حال میں عدالت میں پیش ہوں گے لیکن بعد ازاں مقدمے کے پراسیکیوٹر اسلم شیخ نے عدالت کو بتایا کہ ’اے ایف آئی سی کے کمانڈنٹ نے رخنہ ڈال دیا ہے کہ جب تک کوئی انہیں پرویز مشرف کو تحویل میں لینے کے بارے میں تحریر نہیں دے گا وہ مشرف کو نہیں بھیجیں گے۔‘
تاہم بعدازاں وزارتِ داخلہ کی مداخلت پر پرویز مشرف سخت حفاظتی انتظامات میں عدالت پہنچے۔
خیال رہے کہ پرویز مشرف دو جنوری کو مقدمے کی سماعت کے موقع پر عدالت جاتے ہوئے راستے سے ہی ہسپتال چلے گئے تھے اور اس وقت سے وہ اے ایف آئی سی میں ہی موجود ہیں۔
سات فروری کو مقدمے کی سماعت کے موقع پر خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کو 18 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ عدم تعمیل کی صورت میں ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں گے۔







