فوجی کمانڈروں کا ’داخلی سلامتی‘ پر غور

،تصویر کا ذریعہISPR
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے حکومت کی کمیٹی کے سربراہ کی جانب سے فوج کو مذاکراتی ٹیم میں شامل کرنے کی تجویز کے ایک روز بعد پاکستانی فوج کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کا اجلاس ہوا ہے۔
چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی قیادت میں ہونے فوجی کمانڈروں کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں ملک کی اندرونی اور بیرونی سکیورٹی صورتحال پر غور کیاگیا۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ایک بیان میں کور کمانڈر کی کانفرنس کو ’معمول کی کارروائی‘ قرار دیا گیا ہے۔
فوجی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پاکستانی فوج کو امن کے قیام کے لیے شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات میں براہ راست شامل کرنے کے سوال پر پاکستانی میڈیا میں بحث عروج پر ہے لیکن اس موضوع پر فوجی اور سول قیادت کے مابین ابتدائی مشاورت بھی نہیں ہوئی ہے۔
پاکستانی فوج کو کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں شامل کرنے کی تجویز اس کمیٹی کے ارکان نے پیش کی ہے جسے وزیراعظم نے اس تنظیم کے ساتھ امن مذاکرات کی ذمہ داری سونپی تھی۔
وزیراعظم کو یہ تجویز جمعرات کے روز پیش کی گئی تھی جس کے بعد وزیراعظم اور اعلیٰ فوجی قیادت کے درمیان براہ راست رابطہ نہیں ہوا ہے۔
راولپنڈی کے فوجی صدر دفاتر میں ہونے والے کور کمانڈر کے اس اجلاس کی کارروائی سے واقف ایک سینیئر فوجی افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فوج کسی بھی تجویز پر غور کرنے کے لیے تیار ہے لیکن اس کے لیے کسی ایسی تجویز کا باضابطہ فورم پر موجود ہونا ضروری ہے۔
اس سینیئر فوجی افسر نے بتایا کہ ’فوج کے اندر غیر رسمی انداز میں اس سارے معاملے پر بحث ہوتی رہتی ہے۔ ممکن ہے آج کور کمانڈرز کے اجلاس میں بھی طالبان کے ساتھ مذاکرات پر بات ہوئی ہو لیکن اس پر فیصلہ صرف اسی وقت لیا جائے گا جب کوئی تجویز باضابطہ طور پر پیش کی جائے گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افسر کے بقول فوجی حکام نے ماضی میں بھی شدت پسندوں کے ساتھ معاہدے کیے ہیں لیکن اس وقت بھی اور اب بھی سب سے اہم سوال یہی ہوگا کہ جن لوگوں کے ساتھ فوج نے ایک ادارے کے طور پر بات کرنی ہے وہ کون ہیں۔
اس سینیئر فوجی افسر نے کہا:’ کوئی یہ توقع نہ کرے کہ فوج کسی مجرم یا قاتل کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ جائے گی۔‘
وزیراعظم سے ملاقات کے بعد سرکاری کمیٹی کے کوآرڈینٹر عرفان صدیقی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ کمیٹی نے متفقہ طور پر وزیراعظم کو تجویز پیش کی ہے کہ موجودہ مذاکراتی کمیٹی کو تحلیل کر کے ایک ایسی کمیٹی تشکیل دی جائے جو طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرے اور فیصلہ کرنے کی مجاز بھی ہو۔
عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ ان کی رائے میں اس کمیٹی میں فوج کی نمائندگی بھی ہونی چاہئے۔
تاہم قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ وہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں فوج کو شامل کرنے کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ مذاکرات اگر ناکام ہوئے تو حکومت اس کی ذمےداری فوج پر ڈال دے گی۔







