’کمیٹی کے بجائے زیادہ ٹھوس فورم استعمال کریں‘

مذاکرات کا پہلا مرحلہ یعنی رابطہ کاری کا عمل مکمل ہو چکا ہے: عرفان صدیقی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمذاکرات کا پہلا مرحلہ یعنی رابطہ کاری کا عمل مکمل ہو چکا ہے: عرفان صدیقی

پاکستان میں قیامِ امن کے لیے تحریکِ طالبان پاکستان سے مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی کے سربراہ عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کو زیادہ موثر اور ٹھوس بنانے کے لیے زیادہ بااختیار فورم بنایا جائے۔

یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں آج وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان کمیٹی کے اراکین نے وزیراعظم سے ملاقات کی ہے۔اس ملاقات میں حکومتی کمیٹی کے چاروں اراکین اور وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان بھی موجود تھے۔

عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا پہلا مرحلہ یعنی رابطہ کاری کا عمل مکمل ہو چکا ہے، فائر بندی ہو چکی ہے، اسی لیے اب اس عمل کے لیے اس کمیٹی کی جگہ کسی ایسے فورم کو استعمال کیا جائے جو فوری فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے منگل کے روز ہماری کمیٹی نے وزیراعظم سے التماس کیا تھا کہ وہ اس کمیٹی کو کسی مضبوط تر فورم سے تبدیل کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ مشاورت یا رابطوں کے لیے ہماری کمیٹی کی خدمات حاضر ہیں۔

عرفان صدیقی نے وزیراعظم کے حوالے سے بتایا کہ وہ قیامِ امن کو اپنی اوّلین ترجیح سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کا کہنا ہے کہ ’قیامِ امن میری دینی، آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ طالبان کمیٹی کی درخواست پر حکومتی کمیٹی کا ایک رکن ان کے ساتھ وزیرستان جائے گا۔ انہوں نے طالبان کمیٹی کو تحریکِ طالبان پاکستان سے رابطے کے لیے جن سہولیات کی ضرورت ہے، پہلے کی طرح فراہم کی جائیں گی۔

جنگ بندی کے اعلانات کے بعد بھی ہونے والے پر تشدد واقعات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تحریکِ طالبان پاکستان کو وضاحت کرنا ہوگی کہ جو عناصر ان حملوں میں ملوث ہیں، ان سے تحریک کا کیا رشتہ ہے۔

’مقتدر قوتوں اور بااختیار‘ عناصر اگر مذاکراتی کمیٹی کا حصہ بن جائیں تو ہمیں اس سے بہت فائدہ ہوگا: مولانا سمیع الحق

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن’مقتدر قوتوں اور بااختیار‘ عناصر اگر مذاکراتی کمیٹی کا حصہ بن جائیں تو ہمیں اس سے بہت فائدہ ہوگا: مولانا سمیع الحق

اس سے قبل طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے رکن مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کی ’مقتدر قوتیں‘ مذاکراتی عمل کا حصہ بنیں۔

مولانا سمیع الحق نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے انہیں اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ حکومت پوری کوشش کرے گی کہ آپریشن کی نوبت نہ آئے۔

مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ ’مقتدر قوتوں اور بااختیار‘ عناصر اگر مذاکراتی کمیٹی کا حصہ بن جائیں تو ہمیں اس سے بہت فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا چند ایسے معاملات ہیں جن میں ان قوتوں کی مدد کے بغیر پیش رفت نہیں ہو سکتی جیسے کہ قیدیوں کے تبادلے کا مسئلہ، فوج سے کچھ علاقوں سے واپسی کا معاملہ اور حکومت کی جانب سے نقصان کے سلسلے میں معاوضے کی ادائیگی کا معاملہ۔

انہوں نے بتایا کہ مذاکراتی عمل کے لیے کمیٹیاں یہی رہیں گی اور طالبان کمیٹی آئندہ کے لائحہ عمل پر کام کر رہی ہے۔ اس قبل گذشتہ شب مقامی میڈیا میں اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ مذاکراتی عمل کے دوسرے مرحلے میں موجودہ کمیٹیوں کو تحلیل کر دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے گذشتہ سال برسرِاقتدار آنے کے بعد ملک میں امن قائم کرنے کے سلسلے میں تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے کی پالیسی اختیار کی تھی تاہم مذاکرات کا عمل ابتدائی مراحل میں ہی پٹری سے اس وقت اتر گیا تھا جب تحریکِ طالبان کے ایک ذیلی گروپ نے تحریکِ طالبان مہمند ایجنسی نے ایف سی کے ان 23 اہلکاروں کو قتل کر دیا جنہیں جون 2010 میں اغوا کیا گیا تھا۔

طالبان کی جانب سے حملے جاری رہنے کی صورت میں حکومت نے مذاکرات کو بے معنی قرار دے دیا تھا اورطالبان سے غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔

اس پر یکم مارچ کو تحریکِ طالبان پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ وہ ملک کے اکابرین، علمائے کرام کی اپیل، طالبان کمیٹی کے احترام اور اسلام اور ملک کے مفاد میں ایک مہینے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ایک ماہ کی جنگ بندی کے جواب میں حکومتِ پاکستان نے طالبان کے خلاف جاری فضائی کارروائی معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔