طالبان کا ایک ماہ کی جنگ بندی کا اعلان، ’یہ اہم پیش رفت ہے‘

’طالبان نے نیک مقاصد اور سنجیدگی سے مذاکرات کا آغاز کیا ہے‘

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن’طالبان نے نیک مقاصد اور سنجیدگی سے مذاکرات کا آغاز کیا ہے‘
    • مصنف, محمد عبداللہ فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک کے اکابرین، علماء کرام کی اپیل، طالبان کمیٹی کے احترام اور اسلام اور ملک کے مفاد میں ایک مہینے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہیں۔

<link type="page"><caption> ’مذاکرات، دہشت گردی کے متاثرین سے ناانصافی‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/02/140220_nisar_presser_ra.shtml" platform="highweb"/></link>

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ذرائع ابلاغ کو جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ طالبان نے نیک مقاصد اور سنجیدگی سے مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔

اعلان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’تحریک طالبان کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے اپنے تمام حلقہ جات اور مجموعات کو ہدایت جاری کی جاتی ہے کہ تحریک طالبان کی طرف سے حکومت کے ساتھ جنگ بندی کے اعلامیے کا احترام کرتے ہوئے اس کی مکمل پاسداری کریں اور اس دوران ہر قسم کی جہادی کاروائیوں سے گریز کریں۔‘

اُن کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی کے امیر ملا فضل اللہ کی ہدایت پر مذاکراتی عمل میں پیدا شدہ تعطل کے خاتمے اور جنگ بندی کے لیے تنظیم کی طرف سے اپنی مذاکراتی کمیٹی کو دی گئی تجاویز کا حکومت نے مثبت جواب دیا ہے اور ان تجاویز پر عمل درآمد کی پراعتماد یقین دہانی کرائی جاچکی ہے۔

اِس صورتحال میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے ایک ماہ کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔

کالعدم ٹی ٹی پی کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے اُمید ظاہر کی ہے کہ حکومت اس فیصلے پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور مذاکراتی عمل پر مثبت پیش رفت کرے گی۔

دوسری جانب حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے رابطہ کار عرفان صدیقی نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے فائر بندی کے اعلان کو مثبت اور نتیجہ خیز قراردیا ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہا کہ سترہ روز کے مذاکراتی عمل میں یہ ایک قسم کی کامیابی ہے۔

دریں اثناء تحریک طالبان پاکستان مہمند ایجنسی کے رہنما عمر خراسانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومتی رویے کے باوجود وہ فائر بندی کرنے کے لیے تیار ہیں۔

بیان میں انہوں نے کہا ہے ’حکومتی رویے کے باوجود ہم اپنے مرکز کی اطاعت میں فائربندی اور ہر قسم کے امر کی اطاعت کرتے رہیں گے۔‘

مذاکرات بحال

حکومت پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے سربراہ سمیع الحق کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی سعودی عرب روانگی سے قبل وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان سے ٹیلی فون پر تفصیلی بات چیت ہوئی تھی جس میں تجاویز اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

سمیع الحق کے مطابق طالبان نے حکومتی تجاویز قبول کر لی ہیں جس کے نتیجے میں جنگ بندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے حکومت کی جانب سے بھی قیام امن کے لیے تعاون اور اعتماد کی بحالی کے لیے بھر پور اقدامات کی امید کا اظہار کیا۔

مولانا سمیع الحق کے بیان کے مطابق دونوں مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس بھی آئندہ ایک دو میں متوقع ہے۔

حکومتی رد عمل اور امکانات

وزیرِاطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ طالبان کے جنگ بندی کے اعلان کے تناظر میں حکومت اپنی حکمران جماعت کے ارکان اور حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ مشورے کے بعد ہی اپنی حکمت عملی طے کرے گی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پرویز رشید کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر کوئی حتمی پالیسی بنانے سے پہلے ضروری ہے کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم سے مشورہ کیا جائے۔ ’ہمیں آپس میں مشورہ کرنے کے لیے تھوڑا وقت درکار ہوگا۔ جب تک حکومت اپنا کوئی لائحہ عمل طے نہیں کرتی، صورتحال ویسی ہی رہے گی جیسی ہے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ حکومت کو مزید کتنا وقت درکار ہے، وزیرِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی مذاکراتی عمل سے وابسطہ لوگوں سے مسلسل ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں اور یہ کام روزانہ کی بنیادوں پر ہو رہا ہے۔

دوسری جانب طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے رکن اور تـجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کا اعلان کر کے تحریک طالبان پاکستان شاید اس بات کا جائزہ لینا چاہتی ہے کہ حکومت ان کے ساتھ بات چیت میں کس قدر سنجیدہ ہے۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ مذاکراتی ٹیم کو اپنا کام کرنے کے لیے صرف سترہ دن دیے گئے جو کہ ناکافی تھے اور اس دوران طالبان کی شوریٰ سے براہ راست کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔