طالبان کو غیر مشروط جنگ بندی کرنا ہو گی: وفاقی کابینہ

،تصویر کا ذریعہGetty
پاکستان میں وفاقی کابینہ نے منگل کو آئندہ چار برس کے لیے قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دے دی ہے جس کا مرکزی نکتہ ’مذاکرات‘ کے ذریعے ملک میں جاری دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مسئلے کو حل کرنا ہے۔
قومی سلامتی پالیسی کے دیگر دو اہم نکات میں دہشت گردوں کو تنہا کرنا اور طاقت کے ذریعے دہشت گردوں کو تخریبی کارروائیوں سے روکنا شامل ہیں۔
کابینہ کے اہم اجلاس کے بعد وفاقی وزیر برائے صنعت وتجارت خرم دستگیر خان نے ’داخلی قومی سکیورٹی پالیسی‘ کے اہم نکات بتاتے ہوئے کہا کہ 20 جنوری کو داخلی قومی سلامتی کا جو مسودہ پیش کیا گیا تھا اس پر ایک بار پھر تفصیلی بات چیت ہوئی اور اسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ شدت پسندوں کو حملوں سے باز رکھنے کے لیے مذاکرات بھی کرنا ہوں گے ۔
خرم دستگیر نے بتایا کہ اگرچہ حکومت نے مذاکرات شروع کرنے سے پہلے کوئی شرط نہیں رکھی تھی لیکن ان مذاکرات کو مثبت طریقے سے آگے چلانے کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گردی کے واقعات رک جائیں، لیکن اگر ان مذاکرات کے نتیجے میں فوری طور پر یہ نتیجہ حاصل نہیں ہوتا تو مذاکرات کو آگے لے کر چلنا مشکل ہو جاتا۔
وزیراعظم کے بیان پر کہ دہشت گرد غیر مشروط طور پر اپنی کارروائیاں بند کردیں، خرم دستگیر نے بتایا کہ ’داخلی قومی پالیسی کے تناظر میں وزیراعظم نے اپنے آج کے بیان میں اپنے سابقہ موقف کا اعادہ کیا کہ مذاکرات اور دہشت گردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔‘
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وفاقی کابینہ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان پر زور دیا ہے کہ اسے غیر مشروط جنگ بندی کرنا ہو گی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ سکیورٹی پالیسی کا اعلان وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بدھ کو اسمبلی میں کریں گے۔
خِیال رہے کہ کابینہ کے 20 جنوری کو ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ غیر معمولی صورتِ حال میں غیر معمولی اقدامات کرنا ہوں گے، تاہم اس اجلاس میں قومی سلامتی پالیسی منظور نہیں ہوئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس اجلاس میں طالبان سے مذاکرات پر بھی بات ہوئی لیکن دہشت گردی کے حملے نہ رکنے کے پیِش نظر 23 جنوری کو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔
29 جنوری کو جب پاکستان کے وزیرِاعظم ایوان میں آئے تو بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ وہ آپریشن کا اعلان کر سکتے ہیں لیکن انھوں نے امن کو ایک اور موقع دینے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان سے مذاکرات کے لیے مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیے جانے کا اعلان کیا۔
پاکستان کی پارلیمان میں موجود تقریباً سبھی جماعتوں نے وزیراعظم کی حمایت کا اعلان کیا۔
طالبان نے مذاکرات کا خیرمقدم تو کیا اور اس کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دی لیکن پاکستان میں دہشت گردوں کی کاروائیاں نہ تھم سکیں۔







