وزیرستان: پانچ روز میں دوسری کارروائی، ’30 شدت پسند ہلاک، کئی ٹھکانے تباہ‘

اطلاعات کے مطابق منگل کی صبح کی جانے والی اس کارروائی میں شدت پسندوں کے کئی ٹھکانے تباہ ہو گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق منگل کی صبح کی جانے والی اس کارروائی میں شدت پسندوں کے کئی ٹھکانے تباہ ہو گئے ہیں

پاکستان کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق منگل کی صبح پاکستانی فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے وزیرستان ایجنسی میں تین علاقوں پر بمباری کی جس میں ’تیس شدت پسند ہلاک جبکہ شدت پسندوں کے کئی ٹھکانے‘ تباہ ہو گئے ہیں۔

تاہم سکیورٹی فورسز کی جانب سے دی گئی ہلاکتوں کی تعداد مختلف علاقوں میں کارروائی کی تفصیلات کے اعداد و شمار سے مطابقت نہیں رکھتی۔

سکیورٹی فورسز کی جانب سے فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کی کارروائیوں میں بتیس سے تینتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ بیان میں تیس شدت پسندوں کی ہلاکت کا کہا گیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ قبائلی علاقے شمالی اور جنوبی وزیرستان کی سرحد پر واقع شوال پر فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

یہ کارروائی منگل کی صبح کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق اس بمباری میں شدت پسندوں کے کئی ٹھکانے تباہ ہو گئے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق جیٹ طیاروں نے شوال کے پش زیارت کے علاقے پرے غار اور رضان نالہ کے علاقوں پر بمباری کی۔

اس کے علاوہ جیٹ طیاروں نے شمالی وزیرستان ایجنسی کے گروم گاؤں کو بھی نشانہ بنایا۔

یاد رہے کہ قبائلی علاقوں میں ذرائع ابلاغ کی عدم موجودگی میں ملک کے اس دور افتادہ علاقے سے آزادانہ ذرائع سے معلومات حاصل کرنا ممکن نہیں ہے اور ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو سرکاری اور طالبان کی طرف سے کیے جانے والے دعووں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

واضح رہے کہ وزیرستان ایجنسی میں پانچ روز میں یہ دوسری کارروائی ہے۔

اس سے قبل 20 فروری کو شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی اور خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں دو مختلف کارروائیوں میں 15 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔

اس کارروائی میں قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف دو کارروائیاں کی گئیں جن میں جیٹ طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹر استعمال ہوئے۔

میر علی میں شدت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کی دو ماہ میں یہ دوسری کارروائی تھی۔

اس سے قبل 20 جنوری کو پاکستانی فوج کے ذرائع نے اسی علاقے میں جیٹ طیاروں کی کارروائی میں تین جرمن شہریوں سمیت 40 شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔

خیال رہے کہ یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی جب ایف سی کے 23 اہلکاروں کی طالبان کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور دونوں جانب کی مذاکراتی کمیٹیاں حملے روکنے اور جنگ بندی کی اپیلیں کر رہی ہیں۔