مذاکرات اور حملوں کی ’مکس پلیٹ‘

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں تازہ فوجی کارروائی حکام کے مطابق کسی بڑے فوجی آپریشن کا آغاز نہیں بلکہ ملک بھر میں حالیہ حملوں میں ملوث شدت پسندوں کے خلاف محدود کارروائی ہے۔
تاہم اعلیٰ سرکاری اہلکار سمجھتے ہیں کہ اگر مذاکرات اور حملوں کی یہ ’مکس پلیٹ‘ بامعنی نتائج کا باعث نہیں بنتی تو پھر بھرپور، جامع اور وسیع کارروائی کرنا ہوگی۔
حکام سمجھتے ہیں کہ اگر یہ بڑی کارروائی نتائج نہیں دیتی تو یہ ’پاگل پن‘ ہوگا: ’حالات میں بہت ابتری آ چکی ہے۔ اب اسے مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا۔‘
فوجی ذرائع نے جو اعداد و شمار جاری کیے ہیں ان کے مطابق ستمبر 2013 میں منعقدہ کل جماعتی کانفرنس کے بعد سے اب تک طالبان کے حملوں میں 460 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں 308 عام شہری، 114 فوجی اور 38 پولیس اہلکار شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق زخمیوں کی تعداد 1200 سے زیادہ ہے۔ دوسری جانب شدت پسندوں کی ہلاکت بھی کم از کم درجنوں میں ہے۔
ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے بی بی سی کو نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ قبائلی علاقوں میں انہیں کوئی خاص مسئلہ درپیش نہیں۔ اس کی ایک مثال وہ قبائلی علاقوں میں سکولوں کو بموں سے اڑانے کے واقعات میں کمی بتاتے ہیں۔
’ہمارے تقریبا ڈیڑھ لاکھ فوجی وہاں موجود ہیں۔ شدت پسندوں کے چھوٹے موٹے گروہ موجود ہیں اور ان سے وہ نمٹ سکتے ہیں۔ طالبان کی قیادت ویسے بھی اس وقت پاکستانی سرزمین پر نہیں ہے۔‘
لیکن جو بات سیاسی و فوجی قیادت کو کسی بھرپور عسکری کارروائی سے روکتی ہے وہ ان شدت پسندوں کی ملک بھر میں موجودگی ہے۔ ’ان کی موجودگی یہاں ہے اور سلیپر سیل بھی موجود ہیں۔ ان کے ساتھ شہری علاقوں میں مقابلہ مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر اعظم نواز شریف، بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور شاید وزیر داخلہ چوہدری پر مشتمل وہ انتہائی مختصر ٹیم ہے جو آپس میں مشاورت کے بعد شدت پسندی پر قابو پانے سے متعلق اہم فیصلے کر رہی ہے۔
فی الحال شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی کے باڑہ کے علاقے میں کارروائی ’ٹارگٹڈ کارروائی‘ قرار دی جا رہی ہے۔
بعض لوگ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کی کارروائی کو بھی گذشتہ ماہ کی 20 تاریخ کو میر علی حملوں کا ’نشرِ مکرر‘ قرار دیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
عوامی سطح پر شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے مطالبے کے برعکس اب تک حکومت کی جانب سے سیاسی طور پر ترجیح مذاکراتی عمل ہی کو دی جائے گی۔
سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ ملک میں میڈیا ایک خودکش حملہ آور کے پھٹ جانے کو تو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے لیکن وہ اس قسم کی جتنی کوششیں ناکام بناتے ہیں، اس بابت خاموش رہتا ہے۔
’اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید سکیورٹی ادارے کچھ نہیں کر رہے ہیں۔ دراصل ایسا نہیں ہے۔‘
یہ تو ہوئی سرکار کی سوچ، اب طالبان کیا سوچ رہے ہیں؟ عام تاثر یہ ہے کہ طالبان کا کارروائیوں کی حد تک آج کل ’اپر ہینڈ‘ ہے۔ جب تک مذاکرات چل رہے تھے، وہ یکے بعد دیگرے شدید سے شدید حملے کر رہے تھے لیکن دو دن سے جب سے مذاکرات میں تعطل پیدا ہوا ہے حملے بھی رک گئے ہیں۔
لیکن عام خیال ہے کہ یہ عارضی تعطل ہے۔ اس قسم کی رائے قائم کرنے کے لیے دو دن کا وقفہ کوئی بڑا عرصہ نہیں۔ مہمند ایجنسی میں شدت پسندوں کے ایک رہنما عمر خراسانی کا ایک ٹویٹ میں کہنا ہے کہ بموں سے نظریات کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔
تجزیہ نگار موجودہ صورتِ حال کا کوئی جلد حل نہیں دیکھ رہے۔ چاہے حکومتی پالیسی مذاکرات یا فوجی کارروائی کی ہو یا مکس پلیٹ ’گاجر اور ڈنڈے‘ کی، یہ ایک طویل جنگ ہے، جس میں ہار اسی کی ہو گی جو پہلے تھک گیا۔







