’طالبان اور فوج دونوں ہی صحافیوں کے لیے خطرہ، حکومت بے بس‘

سال 2013 کے دوران پاکستان میں اپنے پیشے کی وجہ سے کم سے کم سات صحافیوں کو قتل کیا گیا جس کے خلاف صحافی احتجاج بھی کرتے رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنسال 2013 کے دوران پاکستان میں اپنے پیشے کی وجہ سے کم سے کم سات صحافیوں کو قتل کیا گیا جس کے خلاف صحافی احتجاج بھی کرتے رہے ہیں
    • مصنف, احمد رضا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ساں فرنٹیئرز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں طالبان اور فوج دونوں ہی صحافیوں کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں اور منتخب حکومت ان دونوں کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔

پاکستان کو حالیہ برسوں میں صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملکوں میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔

<link type="page"><caption> صحافیوں کے لیے مہلک ممالک، پاکستان آٹھویں نمبر پر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/05/130502_cpj_report_rh.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> صحافتی دنیا کا تاریک ترین سال</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/02/130221_media_darkest_day_lyse_tim.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’صحافیوں کے قتل،گرفتاری کے واقعات میں غیرمعمولی اضافہ‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/02/130214_cjp_report_rk.shtml" platform="highweb"/></link>

صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز ساں فرنٹیئرز نے دنیا بھر میں صحافیوں پر ہونے والے تشدد اور آزادی صحافت پر عائد پابندیوں کے بارے میں سالانہ رپورٹ جاری کی ہے۔

رپورٹ میں پاکستان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ پچھلے سال کے دوران پاکستان میں اپنے پیشے کی وجہ سے کم سے کم سات صحافیوں کو قتل کیا گیا۔

قتل کیے جانے والے چار صحافیوں کو بلوچستان میں ہلاک کیا گیا جن میں محمد اقبال، سیف الرحمٰن، عمران شیخ اور محمود احمد آفریدی شامل ہیں۔ رپورٹ میں بلوچستان کو پاکستان کا مہلک ترین صوبہ قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں لگتا ہے کہ حکومت صحافیوں کے قتل کے واقعات میں انصاف کی فراہمی میں دلچسپی نہیں رکھتی اور حکومت پاکستان اس معاملے میں وہ نہ صرف طالبان، جہادیوں اور دوسرے مسلح گروہوں کے سامنے بے بس ہے بلکہ فوجی اہلکاروں کے سامنے بھی بے بس نظر آتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے فوجی اداروں کو بین الاقوامی مبصرین ریاست کے اندر ریاست سے تعبیر کرتے ہیں۔

شام میں ہونے والے واقعات سے لبنان میں صحافتی انتشار بڑھا ہے، اردن میں صحافت پر حکومتی گرفت کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے جبکہ عراق میں تشدد کو ہوا ملی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشام میں ہونے والے واقعات سے لبنان میں صحافتی انتشار بڑھا ہے، اردن میں صحافت پر حکومتی گرفت کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے جبکہ عراق میں تشدد کو ہوا ملی ہے

اس رپورٹ میں آر ایس ایف کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان میں مسلح گروہ جنہیں غیرریاستی عناصر بھی کہا جاتا ہے، صحافیوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں مگر خفیہ ایجنسیاں خاص طور پر آئی ایس آئی بھی صحافیوں کے لیے بدستور خطرہ بنی ہوئی ہیں۔

رپورٹ کہتی ہے کہ پاکستان میں بولنے کی جرات کرنے والے صحافی فوج اور اس کی خفیہ ایجنسیوں پر میڈیا کے لوگوں کی جاسوسی کرنے، انہیں اغوا کرنے، تشدد کا نشانہ بنانے اور حتیٰ کہ قتل کرنے کا بھی الزام لگاتے ہیں۔

عالمی پابندیاں اور تشدد

رپورٹرز ساں فرنٹیئرز کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عرب ملک شام میں جاری خانہ جنگی نے پورے خطے میں صحافت پر ڈرامائی اثر ڈالا ہے۔

رپورٹ میں خفیہ سرکاری معلومات منظر عام پر لانے والے افراد کے خلاف کارروائیوں پر امریکہ اور برطانیہ پر بھی کڑی تنقید کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام میں ہونے والے واقعات سے لبنان میں صحافتی انتشار بڑھا ہے، اردن میں صحافت پر حکومتی گرفت کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے جبکہ عراق میں تشدد کو ہوا ملی ہے۔

آر ایس ایف نے اس رپورٹ میں مصر کے حکام پر بھی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اخوان المسلمین کے خلاف کارروائیوں کی آڑ میں میڈیا کو منظم انداز میں نشانہ بنارہے ہیں۔

رپورٹ میں امریکہ اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملکوں پر بھی تنقید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے حکام شہریوں کی جاسوسی کے غیر مہذب طریقوں کو روکنے کے بجائے سرکاری راز افشا کرنے والے افراد کو پکڑنے کے جنون میں گرفتار ہیں۔