کوہستان کی لاپتہ لڑکیاں: ’عدالت میں لائیں، مر چکی ہیں تو لاشیں لائیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دورافتادہ پہاڑی ضلع کوہستان کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے پولیس حکام کو تقریباً دو برس قبل لاپتہ ہونے والی پانچ لڑکیوں کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
سیشن جج نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ان خواتین کو مار دیا گیا ہے یا وہ انتقال کر چکی ہیں تو ان کی لاشیں سامنے لائی جائیں۔
یہ پانچوں لڑکیاں وہ ہیں جنھیں مئی 2012 میں کوہستان میں سامنے آنی والی ایک تقریب کی اس ویڈیو میں تالیاں بجاتے دیکھا گیا تھا جس میں دو لڑکے رقص کر رہے تھے۔
ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد مقامی جرگے نے دونوں لڑکوں اور پانچوں خواتین کو موت کی سزا سنائی تھی۔
سزا سنائے جانے کے بعد دونوں لڑکے علاقے سے بھاگ جانے میں کامیاب ہوگئے تھے تاہم ان کے تین بھائیوں کو لڑکیوں کے رشتہ داروں نے قتل کر دیا تھا اور حال ہی میں اس مقدمے میں ایک ملزم کو سزائے موت اور پانچ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
لڑکوں کے برعکس ان پانچوں لڑکیوں کے بارے میں اس وقت کچھ علم نہیں ہو سکا تھا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا گیا اور بعد میں اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ انھیں بھی ہلاک کر دیا گیا ہے۔
اب کوہستان کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سردار محمد ارشاد نے منگل کو ڈی پی او کوہستان کو حکم دیا ہے کہ وہ تحصیل پلاس کی یونین کونسل پیچ بیلا کے علاقے داندو سرتی سے لاپتہ ہونے والی پانچ خواتین کو 26 فروری کو یا تو زندہ بازیاب کروائیں یا ان کی لاشیں عدالت کے سامنے پیش کی جائیں۔
سیشن جج نے یہ حکم اس درخواست کی پہلی سماعت کے دوران جاری کیا جسے قومی کمیشن برائے وقار نسواں کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پٹیشن دائر کرنے والے وکیل مظہر اکرم ایڈوکیٹ نے عدالت میں کوہستان ویڈیو سکینڈل کے حوالے سپریم کورٹ کے حکم پر بننے والے کمیشن کی رپورٹ اور لاپتہ لڑکیوں کی تصاویر بھی پیش کیں۔
کمیشن کے وکیل مظہر اکرم ایڈوکیٹ نے بی بی سی اردو کی حمیرا کنول کو بتایا کہ ’لیباٹری ٹیسٹ کے مطابق ویڈیو میں موجود لڑکیوں میں سے کسی کو فیکٹ فائنڈنگ کمیشن کے سامنے پیش نہیں کیا گیا تھا اور بعد میں ان کی تصاویر بھی لی گئیں۔‘
قومی کمیشن نے درخواست میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ان پانچوں لڑکیوں کو کمیشن کے سامنے پیش ہی نہیں کیا گیا تھا اور چار لڑکیوں کو جرگے کے حکم کے فوراً بعد اور شاہین نامی پانچویں لڑکی جو کہ حاملہ تھی، بچے کی پیدائش کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ جب یہ واقعہ منظرِ عام پر آیا تو جون 2012 میں حقائق جاننے کے لیے حکومت کی طرف سے ایک وفد کوہستان گیا تھا جس میں انسانی حقوق کے کارکن فرزانہ باری ،رفعت بٹ ،ڈاکٹر فوزیہ اور کمشنر ہزارہ ڈویژن خالد عمر زئی بھی شامل تھے۔
اس وفد نے واپسی پر عدالت کو بتایا تھا کہ شاہین سمیت دو خواتین سے ان کی ملاقات ہوئی جبکہ باقی تین خواتین بازغہ، بیگم جان اور شیرین جان سے دشوار گزار راستوں کی وجہ سے ملاقات نہیں ہو سکی۔
وفد کے ہمراہ جانے والے اس وقت کے کمشنر ہزارہ خالد عمر زئی نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کی اطلاع کے مطابق باقی تین خواتین بھی زندہ اور محفوظ ہیں۔
بعدازاں فرزانہ باری کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آئے تھے کہ انھیں اطلاعات ملی ہیں کہ ان پانچوں لڑکیوں کو قتل کر دیا گیا ہے۔
قومی کمیشن برائے وقار نسواں کی چیئر پرسن خاور ممتاز نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ معاملہ دوبارہ عدالت میں لے جانے کا مقصد اس مقدمے اور واقعے کے بارے میں موجود ابہام دور کرنا اور حقائق سامنے لانا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’لڑکیوں کے بعد ان کے بھائیوں کے قتل کی اخباری خبریں بھی موصول ہوئیں اور کمیشن کی رپورٹ میں بھی یہ سامنے آیا کہ وہاں جانے والے اراکین سے صرف ایک خاتون کی ملاقات ہوئی ہے۔‘
خیال رہے کہ اتوار کو کوہستان کی تحصیل پٹن میں 27 قبیلوں کے 150 افراد پر مشتمل جرگے نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ کوہستان ویڈیو سکینڈل میں موجود پانچوں لڑکیاں قتل کی جاچکی ہیں اور وہ اس کی گواہی سپریم کورٹ میں دیں گے۔
جرگے کے رکن قاری محمد خان نے سوات کے صحافی انور شاہ کو بتایا کہ جرگہ اس قتل کا چشم دید گواہ نہیں لیکن اہل علاقہ نے انہیں بتایا ہے کہ اس وقت کے ممبر صوبائی اسمبلی عصمت اللہ نے لڑکیوں کے زندہ ہونے کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیا تھا۔







