’طالبان نہ آئین مخالف، نہ قانون مخالف، نہ ان کی سوچ منفی‘

ذرائع ابلاغ میں کمیٹی کے اراکین کے بیانات میں کمی آنی چاہیے کیونکہ کمیٹی نے انھیں یہ ذمہ داری دی ہے کہ وہ میڈیا سے بات کریں

،تصویر کا ذریعہPID

،تصویر کا کیپشنذرائع ابلاغ میں کمیٹی کے اراکین کے بیانات میں کمی آنی چاہیے کیونکہ کمیٹی نے انھیں یہ ذمہ داری دی ہے کہ وہ میڈیا سے بات کریں
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

وزیر اعظم کے مشیر اور طالبان سے مذاکراتی کمیٹی کے سینیئر رکن عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی کے قیام سے واضح ہوگیا ہے کہ ان میں آئین اور قانون مخالف منفی سوچ نہیں پائی جاتی۔

بی بی سی اردو کے ساتھ خصوصی انٹرویو کے دوران عرفان صدیقی سے پوچھا گیا کہ طالبان تو آئینِ پاکستان کے اندر کسی بھی بات چیت سے انکاری تھے تو کیا اب ان کی آمادگی کسی سوچ میں تبدیلی کا اشارہ دیتی ہے؟

اس کے جواب میں عرفان صدیقی کا کہنا تھا: ’انھوں نے ایک صوبے میں حکمران جماعت کے رہنما کو کمیٹی کے لیے منتخب کیا ہے۔ آئین، جمہوریت اور قانون کے بغیر ان کی کمیٹی کی تشکیل میں یہ واضح ہوگیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ طالبان کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل مکمل ہونے کے بعد وہ جہاں چاہیں گے ان کی کمیٹی ملنے کو تیار ہے: ’وہ اسلام آباد میں ملنا چاہتے ہیں، پشاور میں ملنا چاہتے ہیں یا وزیرستان میں، ہم ملنے کے لیے تیار ہیں۔ مذاکرات کا آغاز ان مطالبات سے ہونا ہے جو طالبان کرنا چاہتے ہیں۔ پائیدار جنگ بندی کے لیے ہم دیکھیں گے کہ ان میں سے کون سی باتیں مناسب ہیں اور کون سی غیرمناسب ہیں۔‘

کالم نویس عرفان صدیقی جنہیں حکومتی کمیٹی کا رابطہ کار بھی مقرر کیا گیا ہے، کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کی قائم کردہ کمیٹی کے رکن تو ہیں لیکن حکومتی کی مذاکراتی ٹیم کے رکن نہیں ہیں: ’اسی طرح یہ طالبان کمیٹی نہیں ہے بلکہ ان کی قائم کردہ کمیٹی ہے۔‘

ان کے کہنے کا مطلب یہ بنتا ہے کہ وہ سرکار کی مقرر کردہ کمیٹی کے رکن تو ہیں مگر سرکاری کمیٹی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ طالبان کی جانب سے چند امور وضاحت طلب ہیں۔ عرفان صدیقی نے اس بیان کی وضاحت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ وزیر داخلہ کے اپنے تحفظات ہوں گے لیکن ان کا کردار کمیٹی تک محدود ہے: ’کمیٹی کی سوچ کا میں نمائندہ ہوں اور وہ سوچ یہ ہے کہ کسی بھی تحفظ اور شکوک و شبہات کے بغیر ہم ان کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔‘

کمیٹیوں کے اختیارات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ کمیٹیاں فریقین نے بنائی ہیں تو لہٰذا ان کا انہیں مینڈیٹ حاصل ہے: ’ایک دروازہ ہے، جو بند ہے، اب اگر چند لوگ ایک طرف سے اور چند دوسری جانب سے سامنے آتے ہیں اور دروازہ کھل جاتا ہے، میز لگ جاتی ہے اور بات چیت ہوتی ہے تو ایک عمل شروع ہو جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے دونوں کمیٹیاں کسی ایک بات پر متفق ہو جاتی ہیں تو اسی طرح آگے بڑھیں گے۔‘

عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کا پارلیمان میں بیان ہے کہ تمام ملکی ادارے ایک صفحے پر ہیں اور اس عمل کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں

،تصویر کا ذریعہPID

،تصویر کا کیپشنعرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کا پارلیمان میں بیان ہے کہ تمام ملکی ادارے ایک صفحے پر ہیں اور اس عمل کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں

طالبان کے بیان کہ ان کا اصل مسئلہ فوج کے ساتھ ہے، اس بابت عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کا پارلیمان میں بیان ہے کہ تمام ملکی ادارے ایک صفحے پر ہیں اور اس عمل کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں: ’میرا خیال نہیں ہے کہ جب ہم امن کی جانب جا رہے ہوں گے، سلجھاؤ کی جانب بڑھ رہے ہوں گے کہ تو کوئی بھی ادارہ اس عمل کو طاقت آزمائی کے ذریعے ناکام بنائے گا۔‘

ذرائع ابلاغ میں کمیٹی کے اراکین کے بیانات سے متعلق انھوں نے اتفاق کیا کہ اس میں کمی آنی چاہیے کیونکہ کمیٹی نے انھیں یہ ذمہ داری دی ہے کہ وہ میڈیا سے بات کریں۔

عرفان صدیقی اس تاثر سے بھی متفق نہیں تھے کہ لوگ کمیٹی یا مذاکرات کی کامیابی کے بارے میں زیادہ پرامید نہیں ہیں: ’جب ایوان میں وزیر اعظم نے اعلان کیا تو کسی ایک سیاسی رہنما نے بھی منفی بات نہیں کی۔ پھر میڈیا میں بھی اکا دکا خبریں آگئی ہیں لیکن اکثر نے سراہا ہے۔ پھر طالبان نے بھی تائید کی ہے تو یہ بڑی بات ہے۔ ہم نے جن سے بات کرنی ہے اگر وہ ہمارے چہرے دیکھنے اور باتیں سننے کو تیار ہیں تو اس سے زیادہ اور کیا چاہیے؟‘