’سوچا تھا عمران پاکستان کی جانب سے مذاکرات کریں گے‘

عمران خان نے کہا ہے کہ طالبان کو اپنے نمائندے اپنی صفوں سے چننے چاہییں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنعمران خان نے کہا ہے کہ طالبان کو اپنے نمائندے اپنی صفوں سے چننے چاہییں
    • مصنف, طاہر عمران
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

سنیچر کو جب پاکستان کے اکثر ٹی وی چینلز پر یہ خبر نشر ہوئی کہ عمران خان کا نام کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے ان افراد کی فہرست میں شامل کیا ہے جو ان کی جانب سے حکومتی چار رکنی کمیٹی سے مذاکرات کرے گی تو جیسے عمران خان مخالف حلقوں کی چاندی ہو گئی۔

عمران خان پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ طالبان سے ہمدردیاں رکھتے ہیں اور ان کی مذاکرات کی حمایت پر تو انہیں اکثر آڑے ہاتھوں لیا جاتا رہا ہے مگر اس فہرست میں نام شامل ہونے کی خبر نے کم از کم سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا کر دیا۔

جہاں ایک جانب لوگوں نے ان کی عظمت اور کردار پر بات کی کہ دیکھیں طالبان بھی ان پر اعتماد کرتے ہیں اور باقی سیاسی جماعتوں کو لتاڑا وہیں دوسری جانب انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

اسد منیر نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’عمران خان کو طالبان کی جانب سے پیشکش قبول کر لینی چاہیے، ٹی ٹی پی کے مطالبات مان لینے چاہیئیں، خیبر پختونخوا میں زیرحراست قیدیوں کو رہا کر دینا چاہیے اور خیبر پختونخوا میں شریعت کا نفاذ کر دینا چاہیے۔‘

ایک ٹوئٹر صارف مزمل نے ٹویٹ کی کہ ’کیا ہو گیا اگر ٹی ٹی پی نے عمران خان کا نام دے دیا؟ وہ بھی عمران پر اعتماد کرتے ہیں جاہلو۔ عمران ایک مرد ہے ان جیسا رہنما تو ڈھونڈ کر دکھاؤ جس پر سفاک قاتل بھی اعتماد کرتے ہوں۔‘

وزیراعظم نے گذشتہ دنوں چار اراکین پر مشتمل کمیٹی کا اعلان کیا جو طالبان سے مذاکرات کرے گی

،تصویر کا ذریعہPID

،تصویر کا کیپشنوزیراعظم نے گذشتہ دنوں چار اراکین پر مشتمل کمیٹی کا اعلان کیا جو طالبان سے مذاکرات کرے گی

صحافی طلعت حسین نے لکھا کہ ’عمران کو ٹی ٹی پی کی پیشکش قبول کر لینی چاہیے۔ انھیں ان کی کوششوں کا صلہ ملا ہے۔ وقت آ گیا ہے بات چیت کے عمل کو بچانے کا۔ یہی وقت ہے اپنے الفاظ کو عملی جامہ پہنانے کا۔‘

صحافی زاہد حسین نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’ٹی ٹی پی نے عمران خان پر دوبارہ اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے انہیں اپنی ٹیم میں نامزد کر کے۔ کیا یہ حیران کن ہے؟‘

قومی اسمبلی کے رکن نبیل گبول نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’لگتا ہے کہ ٹی ٹی پی امن مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ وہ ان کے تین ایم پی اے مارنے کے باوجود کیسے عمران خان کا نام کمیٹی کے لیے دے سکتے ہیں؟‘

وکیل اطہر من اللہ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’ٹی ٹی پی کی جانب سے نامزد کیے جانے والے افراد پر ہی الزام کیوں؟ ہر سیاسی جماعت نے قومی اسمبلی کی کمیٹی کے ذریعے مذاکرات کی حمایت کی تھی انھیں بھی اس کی ذمہ داری لینی چاہیے۔‘

سماجی کارکن ماہم علی نے ٹویٹ کی کہ’ہم نے سوچا تھا کہ عمران خان ٹی ٹی پی سے مذاکرات کریں گے پاکستان کی جانب سے۔ کس نے سوچا تھا کہ انہیں پاکستان سے مذاکرات کی ٹی ٹی پی کی جانب سے پیشکش کر دی جائے گی۔‘

صحافی رابعہ محمود نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’عمران اور طالبان دونوں جواب دیں ہم آپ کے ہیں کون؟‘

اس ساری بحث میں جہاں ایک جانب مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی سے پہلے زباں بندی ہونی چاہیے لگتا ہے کہ مذاکرات ہوں یا نہ ہوں باتیں، تبصرے، پیش گوئیاں عروج پر ہیں۔

ایک ٹوئٹر صارف نے اس صورتحال پر تبصرہ میرا جی کے شعر سے کیا ’آپ کھانے کو آپریشن اور رولے کو مذاکرات سے بدل سکتے ہیں

وچوں وچ کھائی جاؤ

اتوں رولا پائی جاؤ