اناپ شناپ سوچ کا کھچڑا

اپیزمنٹ کا مطلب ہے جنگ ٹالنے کے لیے مدِ مقابل کو اس خیال سے غیر مشروط سیاسی و مادی رعائیتں دینا کہ ان رعائیتوں کے بعد مدِ مقابل اپنی جنگجویانہ خو کو لگام دے دے گا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناپیزمنٹ کا مطلب ہے جنگ ٹالنے کے لیے مدِ مقابل کو اس خیال سے غیر مشروط سیاسی و مادی رعائیتں دینا کہ ان رعائیتوں کے بعد مدِ مقابل اپنی جنگجویانہ خو کو لگام دے دے گا
    • مصنف, وسعت اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

ایک سوٹڈ بوٹڈ گلی میں سے گزر رہا تھا کہ اوپر سے کسی نے دال پھینکی اور سوٹڈ بوٹڈ کا سر اور چہرہ لت پت ہوگیا۔ وہ غصے میں پاگل ہوکر چیخا: ’اوئے کس کتے نے یہ ذلیل حرکت کی ہے، مرد کا بچہ ہے تو سامنے آ۔‘

ایک پہلوان نما نیچے اترا اور سوٹڈ بوٹڈ کی ٹائی پکڑ کے جھٹکا دیا: ’اوئے خبیث، تو کتا کسے کہہ رہا تھا‘

سوٹڈ بوٹڈ نے لجلجاتے ہوئے کہا ’پہلوان جی دراصل دال اتنی لذیذ تھی کہ میں تھوڑا جذباتی ہوگیا۔ ذرا سی اور پھینک دیں تو دعائیں دوں گا۔‘

ایک شیر نے بھینسے کا شکار کیا تو سب جانور حصہ ملنے کی امید میں کچھار کے سامنے جمع ہوگئے۔ شیر نے شکار کے تین حصے کرتے ہوئے کہا: ’یہ تو میرا ہے۔ یہ دوسرا میرے بچوں کا اور یہ تیسرا تمھارا۔ جس میں ہمت ہو اٹھا لے۔۔۔‘

ندی کے کنارے ایک بھیڑیے نے بکری کا بچہ دیکھا اور اسے پیٹ میں اتارنے کا جواز سوچنے لگا۔ اس نے بکری کے بچے سے کہا: ’کم بخت یہ پانی کیوں گدلا کررہا ہے؟ میں تجھے بطور سزا کھا جاؤں گا۔‘ بکری کے بچے نے کہا: ’حضور آپ اوپر کھڑے ہیں اور پانی آپ کی طرف سے مجھ تک آ رہا ہے۔ بھلا میں یہ پانی کیسے گدلا کرسکتا ہوں۔‘

بھیڑیے نے کہا: ’چلو یہ بتاؤ تم نے پچھلی بارشوں میں مجھے گھورا کیوں تھا؟ بکری کا بچہ کہنے لگا: ’حضور پچھلی بارشوں کے وقت تو میں پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔‘

بھیڑیے نے کہا: ’اچھا تو پھر وہ تیرا باپ ہوگا جس نے مجھےگھورا ہوگا۔ چنانچہ تو بھی مجھے بڑا ہو کے ضرورگھورے گا اور پھر اپنے باپ کی طرح پانی بھی گدلا کرے گا۔ اس لیے میں تجھے نہیں چھوڑوں گا۔ یہ کہہ کر بھیڑیے نے بکری کے بچے کو جبڑوں میں دبا لیا۔۔۔‘

بغداد 29 جنوری 1258 کو ہلاکو خان کے لشکر کے محاصرے میں آیا اور ایلچی بھیجا گیا کہ ہتھیار ڈال دو۔ مگر عباسی خلیفہ المستعصم کے دربار میں علما و فضلا یہ طے کرنے میں مصروف رہے کہ سوئی کے ناکے سے بیک وقت کتنے اونٹ گزر سکتے ہیں۔

دورانِ محاصرہ ایک شام ایک منگول سپاہی ٹہلتے ہوئے کچھ دور نکل آیا اور اس نے چند بغدادیوں کو دیکھا جنھوں نے منگولوں کی دہشت کے قصے بہت دنوں سے سن رکھے تھے۔ چنانچہ وہ اس منگول سپاہی کو دیکھتے ہی منجمد ہوگئے۔ منگول نے سب کو رسے سے باندھا اور سر جھکانے کا حکم دیا۔ پھر اس نے ایک طرف سے سر قلم کرنے شروع کیے۔ تلوار شاید پرانی تھی چوتھے آدمی کا سر کاٹتے ہوئے کند ہوگئی۔ منگول نے باقی بغدادیوں سے کہا خبردار کوئی اپنی جگہ سے نہ ہلے میں دوسری تلوار لاتا ہوں۔ کچھ دیر بعد منگول سپاہی نئی تلوار لے کر آیا تو وہ بغدادی اسی جگہ ساکت بیٹھے تھے۔

محاصرے کے تیرہویں روز منگول افواج دارالحکومت میں داخل ہوئیں۔ خلیفہ السمتعصم کو قالین میں لپیٹ کر ڈنڈے مار مار کے ہلاک کرنے سے بھی پہلے مرکزی لائبریری بیت الحکمت کو آگ لگائی گئی اور مسخ شدہ کتابیں دجلہ میں اس کثرت سے پھینکی گئیں کہ پانی سیاہ ہوگیا۔ پھر دہشت زدہ انسانوں کی فصل کٹنی شروع ہوئی۔

مغل بادشاہ محمد شاہ نے نادر شاہ درانی کے اس مطالبے کو سنجیدگی سے نہیں لیا کہ نادر شاہ کے جن افغان مخالفین نے ہندوستان میں پناہ لی ہے انھیں واپس کیا جائے۔ چنانچہ نادر شاہ نے گھوڑے پر زین کس لی۔ 13 فروری 1739 کے دن دلی کے قریب کرنال کی لڑائی میں مغل فوج نے تین گھنٹے میں ہی ہتھیار ڈال دیے اور فاتح نادر شاہ شکست خوردہ محمد شاہ کے ہم رکاب دلی میں داخل ہوا۔

کچھ نادر شاہی سپاہی کچھ مقامی دوکانداروں سے جھگڑے میں مارے گئے۔ چنانچہ 30 ہزار اہلِ دلی غضبناک نادر شاہی تلواروں کا شکار ہوگئے۔ بعدازاں نادرشاہ نے محمد شاہ کو اپنا پگڑی بدل بھائی بنایا کیونکہ محمد شاہ کی پگڑی میں کوہ نور ہیرا چھپا تھا اور پھر نادر شاہ محمد شاہ کو باج گزار بادشاہ میں تبدیل کر کے ایران کوچ کرگیا۔

انگریزی ڈکشنری میں اپیزمنٹ کی سیاسی اصطلاح 1930 کے عشرے میں داخل ہوئی۔ اپیزمنٹ کا مطلب ہے جنگ ٹالنے کے لیے مدِمقابل کو اس خیال سے غیر مشروط سیاسی و مادی رعایتیں دینا کہ ان رعایتوں کے بعد مدِ مقابل اپنی جنگجویانہ خو کو لگام دے دے گا۔

اس پالیسی کے تحت پہلی عالمی جنگ سے تھک کے چور ہوجانے والے برطانیہ اور فرانس نے ہٹلر اور مسولینی کی جنگی تیاریوں اور جارحیت سے اس امید پر صرفِ نظر کیا کہ ان کی توجہ برطانیہ اور فرانس کی طرف نہیں جائے گی۔

فرانس اور برطانیہ نے چیکو سلوواکیہ پر دباؤ ڈال کر اسے اپنا ایک بڑا علاقہ ہٹلر کو پیش کرنے پر مجبور کردیا تاکہ ہٹلر کی علاقائی بھوک مٹ سکے اور یہ کارِ خیر برطانوی وزیرِ اعظم نیول چیمبرلین اور فرانسیسی وزیرِ اعظم ایدوار دیلادیے نے میونخ جا کر ہٹلر اور مسولینی سےملاقات میں کیا اور پھر چیکوسلواکیہ کی لاش پر کیے گئے اس سمجھوتے کو یورپ میں امن کی کنجی کہا گیا۔

ٹھیک ایک سال بعد ہٹلر نے پہلے پولینڈ پھر بیلجیئم اور پھر فرانس پر قبضہ کیا اور پھر برطانیہ کو ہڑپ کرنے کے لیے لگاتار بمباری شروع کردی۔

اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ کیا اناپ شناپ ہانکے جارہا ہوں تو آپ بالکل درست سوچ رہے ہیں۔ بات یہ ہے کہ میں طالبان اور حکومت کے مذاکرات کا تجزیہ کرنے بیٹھا تھا کہ اچانک ترتیب وار خیالات منتشر ہو کر اس کھچڑے میں تبدیل ہوگئے جو آپ نے ابھی ملاحظہ کیا۔۔