طالبان اپنے نمائندے اپنی صفوں سے چنیں: عمران خان

جماعت اپنی جانب سے تعاون کے ممکنہ طریقہ کار پر بھی غور کرے گی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنجماعت اپنی جانب سے تعاون کے ممکنہ طریقہ کار پر بھی غور کرے گی

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کے لیے بنائی گئی کمیٹی پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کو اپنے نمائندے اپنی صفوں سے چننے چاہییں۔

عمران خان کا یہ بیان ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے جن کے مطابق طالبان نے اپنی جانب سے مذاکرات کے لیے عمران خان اور مولانا سمیع الحق سمیت پانچ افراد کے نام دیے ہیں۔

<link type="page"><caption> ’طالبان جہاں کہیں گے وہیں ان سے بات کی جائے گی‘</caption><url href="Filename: http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/01/140131_pakistan_taliban_talks_committee_meeting_tk.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’سات ماہ لاشیں اٹھائیں، امن کو آخری موقع دینا چاہتا ہوں‘</caption><url href="Filename: http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/01/140129_pakistan_taliban_nawaz_assembly_tk.shtml" platform="highweb"/></link>

سنیچر کی شب تحریکِ انصاف کی ویب سائٹ پر جاری بیان ہونے والے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کا کہنا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان امن مذاکرات کے لیے خود اپنے طالبان نمائندے منتخب کرے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کو حکومت کی جانب سے بنائی گئی چار رکنی کمیٹی پر پورا اعتماد ہے اور جماعت پیر کو کور کمیٹی کے اجلاس میں اپنی جانب سے تعاون کے ممکنہ طریقۂ کار پر بھی غور کرے گی۔

عمران خان کے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی اپنے پیغام میں یہ بات دہرائی اور ٹویٹ کی کہ ’امن مذاکرت میں تحریک ِ انصاف کی جانب سے تعاون کے امکانات پر غور کرنے کے لیے پیر کو جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔‘

اطلاعات کے مطابق طالبان کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی کے لیے پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کے علاوہ مولانا سمیع الحق، لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز، جمیعت علمائے اسلام کے سابق رکن اسمبلی مفتی کفایت اللہ اور جماعتِ اسلامی کے پروفیسر محمد ابراہیم کے نام سامنے آئے تھے۔

اس سے پہلے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع لال مسجد کے منتظم مولانا عبدالعزیز نے بھی کہا کہ حکومت اور طالبان کی جانب سے مذاکرات کے عمل میں شامل ہونے کی پیشکش کی گئی ہے تاہم وہ اس وقت تک اس عمل میں شامل نہیں ہوں گے جب تک حکومت نظام شریعت کے نفاذ کے مطالبے پر سنجیدگی ظاہر نہیں کرتی۔

دوسری جانب طالبان سے مذاکرات کے لیے قائم کی گئی حکومت کمیٹی کے رکن عرفان صدیقی نے کہا کہ صرف کمیٹی کے ارکان کو بات چیت کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے اور کمیٹی کے کسی نمائندے کی جانب سے مولانا عبدالعزیز سے کوئی رابط نہیں ہوا ہے۔

مولانا عبدالعزیز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سنیچر کو حکومت اور طالبان دونوں جانب سے ان سے رابطہ کیا گیا ہے۔

’ملک کے اہم نمائندے نے فون کر کے کہا ہے کہ مذاکرات کے حوالے سے حکومت سے تعاون کریں جبکہ طالبان کے ایک نمائندے کی جانب سے فون آیا اور انھوں نے کہا کہ ہماری شوریٰ کی رائے ہے کہ آپ اس عمل میں شامل ہوں۔‘

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے بنائی گئی چار رکنی کمیٹی میں قومی امور پر وزیراعظم کے معاونِ خصوصی عرفان صدیقی کے علاوہ پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے کے سابق افسر میجر محمد عامر خان، سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی اور افغانستان میں سابق پاکستانی سفیر رستم شاہ مہمند شامل ہیں جبکہ کمیٹی کی معاونت وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کریں گے۔