’حکومتی کمیٹی کو تو اختیار حاصل ہے، طالبان وفد کتنا بااختیار ہے؟‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے جواب میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے وفد کے اعلان کو مثبت پیش رفت قرار دیا ہے تاہم سوال کیا ہے کہ طالبان اپنی کمیٹی کی طرف سے کیے گئے فیصلوں کی کس حد تک پابندی کریں گے۔
سرکاری ذرائع ابلاع کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ کا یہ بیان کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ طالبان کی جانب سے مذاکرات کرنے کے لیے پانچ رکنی ’وفد‘ کا اعلان کے بعد آیا جس میں لال مسجد کے خطیب مولانا عبد العزیز اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان شامل ہیں۔
واضح رہے کہ ہفتے کو یہ اطلاعات آئی تھیں کہ طالبان نے اپنی جانب سے مذاکرات کے لیے عمران خان اور مولانا سمیع الحق سمیت پانچ افراد کے نام دیے ہیں تاہمطالبان کی جانب سے باضابطہ بیان اتوار کو جاری کیا گیا۔
مذاکراتی عمل شروع ہونے سے قبل
وفاقی وزیر داخلہ نے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی کو مکمل اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ باضابطہ مذاکرات کے آغاز سے قبل چند ایشوز کی وضاحت ضروری ہے، جن میں سے ایک یہ ہے کہ طالبان اپنی کمیٹی کی طرف سے کیے گئے فیصلوں کی کس حد تک پابندی کریں گے۔
وزیرداخلہ نے کہا کہ دونوں جانب سے کمیٹیوں کا اعلان اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں فریق امن کے عمل میں سنجیدہ ہیں۔
چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ آئندہ کی حکمت عملی کا اعلان وزیرِاعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد پیر کو کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُنہوں نے کہا مذاکرات بڑا پیچیدہ معاملہ ہے اور سیاسی رہنماؤں اور علمائے کرام کو امن عمل کی کامیابی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
طالبان کا اعلان
اس سے قبل تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان اپنی عمل داری والے علاقوں میں مذاکراتی وفود کو مکمل تحفظ اور سکیورٹی فراہم کرے گی۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہفتے کے روز شوریٰ کا اجلاس منعقدہوا جس میں حکومت کی طرف سے مذاکراتی کمیٹی کے اعلان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اجلاس میں طویل غور و خوض کے بعد ایسے وفد کی تشکیل پر اتفاق ہوا جو حکومتی ارکان کے ساتھ باآسانی رابطہ کر سکے اور تحریک طالبان کا موقف حکومت اور پاکستان کے مسلمانوں کو بہتر انداز میں پیش کر سکے۔‘
بیان کے مطابق شوریٰ کے اجلاس میں مندرجہ ذیل ناموں پر اتفاق ہوا ہے۔
مولانا عبد العزیز، خطیب لال مسجد، اسلام آباد
مولانا سمیع الحق، مہتمم جامعہ حقانیہ، اکوڑہ خٹک
عمران خان، چیئرمین تحریک انصاف
مفتی کفایت اللہ، صوبائی رہنما جمعیت علمائے اسلام
پروفیسر ابراہیم، صوبائی امیر جماعت اسلامی
بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی سیاسی شوریٰ مذاکراتی کمیٹی کی مکمل رہنمائی اور نگرانی کرے گی۔
بیان کے مطابق ’تحریک طالبان پاکستان اپنی عمل داری والے علاقوں میں مذاکراتی وفود کو مکمل تحفظ اور سکیورٹی فراہم کرے گی۔‘
شاہد اللہ شاہد نے بیان میں کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان پوری سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ حکومت سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے اور اس حوالے سے ان کا موقف واضح ہے:
’ہم امید رکھتے ہیں کہ موجودہ حکومت ماضی کی حکومتوں کی طرف سے کی گئی غلطیوں کو نہیں دہرائے گی۔ ماضی کی حکومتوں نے مذاکرات کو ہمیشہ جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جس کی وجہ سے پاکستان میں امن کا قیام کبھی ممکن نہ ہوسکا۔‘
سنیچر کو طالبان کی کمیٹی میں نام شامل ہونے کی اطلاعات پر پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کے لیے بنائی گئی کمیٹی پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کو اپنے نمائندے اپنی صفوں سے چننے چاہییں۔
سنیچر کی شب تحریکِ انصاف کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے بیان کے مطابق عمران خان کا کہنا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان امن مذاکرات کے لیے خود اپنے طالبان نمائندے منتخب کرے۔
اس سے قبل وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی امور اور امن مذاکرات کمیٹی کے رابطہ کار عرفان صدیقی نے طالبان کی جانب سے حکومت سے مذاکرات کے لیے کمیٹی کے قیام کا خیر مقدم کیا تھا۔
ایک بیان میں انہوں نے طالبان کمیٹی کے قیام کو امن کے جانب مثبت قدم قرار دیا۔ عرفان صدیقی نے کہا کہ حکومتی کمیٹی طالبان کی کمیٹی کے منتظر ہیں تاکہ امن کے قیام کے لیے سنجیدہ مذاکرات شروع کیے جائیں۔







