پشاور: مندر کا محافظ پولیس اہلکار فائرنگ سے ہلاک

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور میں ہندوؤں کے ایک مندر پر ڈیوٹی دینے والے پولیس اہلکار پر فائرنگ کی گئی ہے جس میں وہ ہلاک ہوگئے ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ اتوار کی صبح پشاور شہر کے گنجان آباد علاقے ہشتنگری میں جھنڈا بازار کے علاقے میں پیش آیا۔
ہشتنگری پولیس سٹشین کے اہلکار زاہد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ فرنٹیر ریزرو پولیس کے ایک اہلکار ہندوؤں کے ایک مندر کے سامنے ڈیوٹی دے رہے تھے کہ اس دوران دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی جانب سے ان پر اندھادھند فائرنگ کی گئی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
انھوں نے کہا کہ حملہ آوار فرار ہونے میں کامیاب رہے۔
پولیس اہلکار کے مطابق حملے کے بعد ہشتنگری اور فقیر آباد کے علاقوں سے درجنوں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
پشاور میں کچھ عرصے سے سکیورٹی اہلکاروں پر دن دہاڑے حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اکثر اوقات یہ دیکھا گیا ہے کہ مسلح افراد گنجان آباد اور بازار کے علاقوں میں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کرکے بھاگ جانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔
ایسے واقعات میں اب تک ایک اندازے کے مطابق درجنوں سکیورٹی اہلکار مارے جاچکے ہیں جن میں ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز بھی شامل ہیں۔
گذشتہ سال بھی شہر میں ٹارگٹ کلنگ کے کئی ایسے واقعات پیش آئے تھے جس کے بعد پولیس کی طرف سے دعوی کیا گیا تھا کہ ان حملوں میں ملوث ایک گروہ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شہر میں سخت سکیورٹی کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے کچھ عرصے سے پولیس اور پولیو کارکنوں پر جاری حملوں پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔







