پشاور: فائرنگ میں شیعہ عالم دین ہلاک

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام میں کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ایک شیعہ عالم دین کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر کی شام پشاور شہر کے گنجان آباد علاقے قصہ خوانی بازار میں پیش آیا۔

خان رازق پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار فضل جان نے بی بی سی کو بتایا مقامی امام بارگاہ کے متولی محمد عالم موسوی اپنے مکان سے امام بارگاہ جا رہے تھے کہ ڈھکی کے علاقے میں مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے وہ موقع ہی پر ہلاک ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ مقتول محلہ خداداد میں واقع امام بارگاہ سید عالم مرشدی کے متولی اور عالم دین تھے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دو حملہ آوار پیدل آئے، فائرنگ کی اور بعد میں فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ مقتول عالم دین پشاور کے سینیئر صحافی باقر موسوی کے بھائی تھے۔

خیال رہے کہ پشاور میں گزشتہ کچھ عرصہ سے شیعہ پروفیشنلز اور علماء پر حملوں اور ان کے اغوا کی وارداتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران خیبر پختونخوا میں سو سے زائد ایسے واقعات پیش آچکے ہیں جس میں یا تو اہل تشیع فرقہ سے تعلق رکھنے والے پروفیشنلز کو اغوا یا ان کو قتل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ان حملوں میں ملوث کسی ایک ملزم کو بھی گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔