پولیو ٹیم پر حملے میں تین ہلاک، کراچی میں مہم معطل

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں پولیو اب بھی پھیل رہا ہے
،تصویر کا کیپشنپاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں پولیو اب بھی پھیل رہا ہے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان میں پولیو مہم کے دوسرے روز ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں انسدادِ پولیو مہم کے کارکنوں پر حملے کے نتیجے میں دو خواتین سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

واقعے کے بعد لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تنظیم نے تحفظ فراہم نہ کیے جانے پر مہم کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے، جبکہ محکمۂ صحت نے چند روز کے لیے کراچی میں مہم معطل کردی ہے۔

یہ واقعہ منگل کو کراچی کے علاقے قیوم آباد بی ایریا میں پیش آیا، جس میں تین رضاکار ہلاک اور ایک خاتون ورکر سمیت دو افراد زخمی ہوگئے۔

ایس ایس پی پیر محمد شاہ کا کہنا ہے کہ یہ ٹیمیں اپنے کام میں مصروف تھیں کہ چند موٹر سائیکلوں پر مسلح افراد نے آ کر بیک وقت دو ٹیموں کو نشانہ بنایا۔

خیراتی ادارے چھیپا کے رضا کار رضوان کے مطابق انھوں نے جائے وقوعہ پہنچنے پر دیکھا کہ گلی میں لاشیں پڑی ہوئی تھیں اور ان کے گرد لوگ جمع تھے جنھیں وہ جناح ہپستال لے کر آ گئے۔

جناح ہسپتال میں شعبۂ حادثات کی انچارج سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے کارکنوں میں 25 سالہ انیتا، 26 سالہ اکبری اور 25 سالہ فہد شامل ہیں جبکہ پولیو ورکر سلمٰی اور ایک عام شہری علی افضل شاہ زخمی ہوئے ہیں۔

صوبہ سندھ میں پیر سے انسداد پولیو مہم کا آغاز کیا گیا تھا جس میں 76 لاکھ بچوں کو پولیو ویکیسن پلانے کا ٹارگٹ مقرر کیا گیا تھا، جن میں سے تقریباً 22 لاکھ بچوں کا تعلق کراچی سے ہے۔

ضلعی صحت افسر ظفر اعجاز کا کہنا ہے کہ کراچی میں ساڑھے چھ ہزار ٹیمیں مہم میں شریک تھیں۔ان کے مطابق ہر ٹیم دو افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔

پولیو ورکر کئی ماہ سے تنخواہ نہ ملنے کے سبب احتجاج کر رہے تھے اور دو دن قبل ہی انھیں تمام واجبات کی ادائیگی کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔ تین رضاکاروں کی ہلاکت کے بعد آل پاکستان لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسوسی ایشن سندھ کی چیئرپرسن خیر النسا کا کہنا ہے کہ انھوں نے پولیو مہم کا بائیکاٹ کر رکھا تھا۔

’حکومت کی جانب سے سکیورٹی کی فراہمی، ملازمتوں کے مستقل کیے جانے اور رکی ہوئی تنخواہیں جاری کیے جانے کی یقین دہانی کے بعد کام شروع کیا گیا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت نے ان کی سکیورٹی کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا جس کی وجہ سے تین معصوم لوگوں کی جانیں چلی گئیں: ’اب ڈھائی سو روپے کے لیے کون زندگی داؤ پہ لگائے گا۔ ہم اس مہم کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔‘

دوسری جانب محکمۂ صحت نے کراچی میں پولیو مہم معطل کر دی ہے۔ ایڈیشنل سیکریٹری منصور سولنگی کا کہنا ہے کچھ دنوں کے لیے پولیو مہم معطل کی گئی ہے، اور اعلیٰ حکام پولیو کارکنوں کے لیے حفاظتی انتظامات کا دوبارہ جائزہ لیں گے۔

کراچی میں گذشتہ سال بھی چار پولیو رضاکاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد یونیسیف کی طرف سے وضح کیے گئے طریقۂ کار کے مطابق ہر ٹیم کے ہمراہ دو پولیس اہل کار ہونا لازمی ہیں۔ ایس ایس پی پیر محمد شاہ بھی اس طریقۂ کار کی تصدیق کرتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ جس وقت حملہ ہوا اس وقت پولیس موجود نہیں تھی کیونکہ پولیس کو ان کے ساتھ 11 بجے شامل ہونا تھا، رضاکاروں نے صورتِ حال کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور مہم شروع کردی۔ ایس ایس پی کے مطابق انھوں نے ٹیم کے ڈاکٹر سے بھی رابطہ کیا جن کا بھی کہنا ہے کہ انھوں نے ٹیم کو روکا تھا لیکن وہ نہ مانے۔

ادھر محکمۂ صحت کے صوبائی سیکریٹری اقبال حسین کا کہنا ہے کہ کراچی میں 50 کے قریب ایسے علاقے ہیں جنھیں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر حساس قرار دیا گیا ہے، لیکن جس جگہ واقعہ پیش آیا ہے اس کا شمار عام علاقوں میں ہوتا ہے، اس لیے ٹیم کے ساتھ سکیورٹی موجود نہیں تھی۔