’پولیو کے خاتمے کے لیے علما کا تعاون ضروری‘

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بعض حلقوں کی جانب سے انسدادِ پولیو کے قطرے پلانے کی مخالفت کی جاتی ہے
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے قبائلی علاقوں میں بعض حلقوں کی جانب سے انسدادِ پولیو کے قطرے پلانے کی مخالفت کی جاتی ہے

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ پولیو کے خاتمے کے لیے علما اور مساجد کے ائمہ حضرات کو انسدادِ پولیو مہم میں ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔

صدر ممنون حسین نے سنیچر کو پشاور میں قبائلی رہنماؤں اور علما سے ملاقات کرنے کے علاوہ انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کی۔

انھوں نے کہا ہے کہ اس مرض کے خلاف عوامی سطح پر آگہی کی اشد ضرورت ہے اور اس کے لیے تمام مکتبۂ فکر کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں چند ایک مقامات پر انسدادِ پولیو مہم کو سخت مشکلات کا سامنا ہے جب کہ کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں کشیدگی اور فوجی آپریشن کی وجہ سے بڑی تعداد میں بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے نہیں پلائے جا سکے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اس مرتبہ بھی ایک اندازے کے مطابق تین لاکھ بچے انسدادِ پولیو کے قطرے پینے سے محروم رہیں گے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بعض حلقوں کی جانب سے انسدادِ پولیو کے قطرے پلانے کی مخالفت کی جاتی ہے۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں انسداد پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں اور ان کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں پر متعدد حملے بھی ہو چکے ہیں جن میں ڈیڑھ سال کے دوران 25 سے 30 رضا کار اور اہل کار ہلاک ہوئے ہیں۔

قبائلی علاقوں میں گذشتہ ہفتے انسداد پولیو کی مہم کا آغاز ہونا تھا لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر اسے ملتوی کر دیا گیا تھا۔

خیبر ایجنسی میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے مقامی قبائلی پولیس اہل کاروں کو قطرے پلانے کی تربیت بھی فراہم کی جا چکی ہے۔

فاٹا میں انسداد پولیو مہم کے حکام کا کہنا ہے کہ ایجنسی میں تقربیاً 200 خاصہ داروں اور لیویز اہل کاروں کو تربیت فراہم کی جا چکی ہے ۔

گزشتہ سال پولیو کے سب سے زیادہ مریض قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخو سے سامنے آئے تھے جس پر ملک میں تشویش پائی جاتی ہے۔