دو حلقوں سے انگوٹھوں کے نشانات کی رپورٹ طلب

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے قومی اسمبلی کے دو حلقوں این اے 125 لاہور اور این اے 154 لودھراں میں انتخابات میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق سے متعلق دو ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔
یہ حکم پاکستان کے نئے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی درخواست پر دیا۔
ان حلقوں میں پاکستان تحریک انصاف کے اُمیدوار حامد خان اور جہانگیر ترین ناکام ہوئے تھے جب کہ ان دونوں حلقوں میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے اُمیدوار جیت گئے تھے۔
عدالت نے سیکریٹری الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ وہ لاہور اور ملتان الیکشن ٹربیونلز سے ان حلقوں کی رپورٹ منگوا کر اُس کا جائزہ لیں اور اُنھیں سپریم کورٹ میں جمع کروایا جائے۔
عدالت نے الیکشن کمیشن سے اس بات کی بھی وضاحت مانگی ہے کہ الیکشن ٹربیونل نے چار ماہ کے اندر اندر انتخابی عُزرداریوں کا ابھی تک فیصلہ کیوں نہیں کیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ اس درخواست میں عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا گیا ہے اُس سے متعلق عدالت فی الحال کوئی رائے نہیں دے رہی اور نہ ہی عدالت اس درخواست کے میرٹ پر ہونے سے متعلق کوئی حکم صادر کر رہی ہے۔
چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے قومی اسمبلی کے چار حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات سے متعلق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی درخواست کی سماعت کی۔
عمران خان نے عدالت کو بتایا کہ وہ عام شہری کی حیثیت سے عدالت میں آئے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اس سال مئی میں ہونے والے عام انتخابات میں جو دھاندلی ہوئی ہے اُس کو سامنے لایا جائے تاکہ اس کا اثر ملک میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات پر نہ پڑے۔ انھوں نے کہا کہ اس سے جمہوریت مضبوط ہوگی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُنھوں نے کہا کہ وہ قومی اسمبلی کے تمام حلقوں کے لیے نہیں صرف چار حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کروانا چاہتے ہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ صوبہ سندھ میں محض دو حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کا عمل شروع ہوا تو اُس میں 60 فیصد ووٹ جعلی نکلے تھے جس سے معلوم ہوتاہے کہ عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر اُن کے موقف کو تسلیم کرلیا گیا تو پھر مستقبل میں دیگر سیاسی جماعتیں بھی دھاندلی کا الزام لگا کر سپریم کورٹ کا رخ کریں گی۔







