’بےضابطگیاں ثابت ہونے پرمناسب احکامات ہوں گے‘

انتخابی نتائج میں تاخیر کی وجہ سے دھاندلی کے شکوک شہبات پیدا ہو رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنانتخابی نتائج میں تاخیر کی وجہ سے دھاندلی کے شکوک شہبات پیدا ہو رہے ہیں

سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان نے کہا ہے کہ عام انتخابات میں دھاندلی اور دیگر شکایات سُنے کے لیے ملک بھر میں چودہ الیکشن ٹربیونل قائم کردیئےگئے ہیں اور پولنگ کے دوران بےضابطگیاں ثابت ہونے پر الیکشن کمیشن مناسب احکامات جاری کرے گا۔

پیر کے روز چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ کسی پولنگ سٹیشن پر ہونے والی بے ضابطگیوں پر یہ ٹربیونل وہاں پر دوبارہ پولنگ کے احکامات بھی جاری کرسکتے ہیں۔

اشتیاق احمد خان کا کہنا تھا کہ یہ ٹربیونل ایک سو بیس روز کے اندر اندر شکایات سے متعلق فیصلہ سُنائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک بھر سے پولنگ کے دوران بےضابطگیوں سے متعلق شکایات نہیں ملیں۔ اُنہوں نے کہا کہ بدعنوانی ثابت ہونے کی صورت میں الیکشن کمیشن حلقے میں دوبارہ انتخابات کا بھی حکم دے سکتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 250 میں 43 پولنگ سٹیشن پر عام انتخابات دس روز کے اندر اندر کروا دیے جائیں گے۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ اب تک 90 فیصد اسمبلیوں کے انتخابات کے نتائج موصول ہوچکے ہیں جبکہ باقی ماندہ نتائج رات گئے تک موصول ہو جائیں گے۔

ادھر الیکشن کمیشن نے ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے نتائج میں تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے چاروں صوبوں کے چیف الیکشن کمشنروں سے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد غیر سرکاری نتائج کو مکمل کر کے الیکشن کمیشن کو بھجوائیں۔

ڈائریکٹر جنرل الیکشن کمیشن شیر افگن کی طرف سے صوبائی چیف الیکشن کمشنروں کو لکھے گئے خط میں کہاگیا ہے کہ کمپپوٹرائزڈ رزلٹ مینجمنٹ سسٹم صحیح طریقے سے کام نہیں کر رہا اس لیے روایتی طریقے سے ہی انتخابی نتائج کو فیکس کے ذریعے بھیجا جائے تاکہ ان انتخابات کے نتائج کا اعلان جلد از جلد کیا جاسکے۔

ریٹرنگ افسران کی طرف سے انتخابی نتائج میں تاخیر کی وجہ سے لوگوں اور بلخصوص اُمیدواروں میں دھاندلی کے شکوک شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ صوبائی الیکشن کمشنروں نے اپنے اپنے علاقوں میں ریٹرنگ افسران کو ہدایت کریں کہ وہ اپنے اپنے حلقوں کے انتخابی نتائج کو حتمی شکل دے کر فوری طور پر الیکشن کمیشن کو بھجوائیں۔

قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں میں پولنگ کو ہوئے اڑتالیس گھنٹے ہوچکے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن نے اب تک ڈیڑھ سو سے زائد قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے نتائج کا غیر سرکاری اعلان کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے کراچی اور لاہور میں انتخابات کے دوران دھاندلی کی شکایت کی ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ نون صوبہ سندھ کے شہر جیکب آباد میں دھاندلی کے خلاف دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔

ان انتخابات کے دوران ریٹرنگ افسران کی طرف سے بھیجی جانے والی رپورٹس کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔