پاکستانی انتخابات: عالمی اخبارات کیا کہتے ہیں؟

پاکستان میں گیارہ مئی کے تاریخی انتخابات کو دنیا بھر کے اخبارات نے صفحۂ اول پر کوریج دی ہے، اور اس پر اپنے اپنے انداز میں تبصرے کیے ہیں۔
برطانوی اخبار گارڈیئن نے لکھا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے انتخابات دو معنوں میں تاریخی ہیں کیوں کہ ان کے ذریعے پہلی بار ایک جمہوری حکومت سے اقتدار دوسری جمہوری حکومت کو منتقل ہو گا۔
دوسرے یہ کہ ان انتخابات میں چار عشروں کے بعد پہلی بار ایک ’تیسری قوت‘ تحریکِ انصاف ابھر کر سامنے آئی ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ تحریکِ انصاف نے دو مختلف طریقوں سے سیاست کی ہے اور اسے اس سلسلے میں بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔ ان میں سے ایک ہے سودے بازی کرنے گریز اور دوسرے نوجوان اور پڑھے لکھے طبقے تک رسائی حاصل کرنا۔
امریکی اخبار یو ایس اے ٹوڈے نے لکھا ہے کہ اپنی حکومت کو فوج کی طرف سے برطرف کیے جانے اور سات سال جلاوطنی میں گزارنے، اور عمران خان کی طرف سے زبردست مقابلے کے باوجود نواز شریف کی فتح بہت متاثر کن ہے۔
معروف امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے جس چیز کو متاثر کن بتایا ہے وہ یہ ہے کہ طالبان کی طرف سے انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی دھمکیوں کے باوجود 60 فیصد ٹرن آؤٹ رہا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے نامہ نگار ڈیکلن والش نے اپنے اخبار میں لکھا ہے کہ نواز شریف نے پاکستان میں امریکی اثر و رسوخ کو کم کرنے کا عہد کیا ہے جس سے پاکستان کے امریکہ کے ساتھ پہلے ہی تلاطم خیز تعلقات کے آگے سوالیہ نشان کھڑا ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ ڈیکلن والش کو پاکستان کی حکومت نے ’ناپسندیدہ سرگرمیوں‘ کی وجہ سے ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔
یو ایس اے ٹو ڈے رقم طراز ہے کہ عسکریت پسندوں کی دھمکیوں کے باوجود ان تاریخی انتخابات میں خواتین نے بڑی تعداد میں حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف نے نواز شریف کے بارے میں لکھا ہے کہ انھوں نے مغرب کو یقین دہانی کرانے کی کوشش کی ہے کہ وہ القاعدہ اور طالبان کے خلاف جنگ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
اخبار کے مطابق نواز شریف نے سنڈے ٹیلی گراف سے بات کرتے ہوئے کہا، ’مجھے امریکہ کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ ہے اور مجھے ان کے ساتھ مزید کام کر کے خوشی ہو گی۔‘
انھوں نے کہا، ’جو چیز سب سے اہم ہے وہ یہ ہے کہ ہم اپنی سرزمین کو دنیا کے کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔‘







