سندھ: انتخابات میں دھاندلی کے خلاف پھر ہڑتال

سندھ میں چند روز پہلے بھی انتخابات میں دھاندلی کے خلاف ہڑتال کی گئی تھی
،تصویر کا کیپشنسندھ میں چند روز پہلے بھی انتخابات میں دھاندلی کے خلاف ہڑتال کی گئی تھی

پاکستان کے صوبہ سندھ میں گیارہ مئی کے انتخابات کے دوران مبینہ دھاندلیوں کے خلاف دس جماعتی اتحاد کی اپیل پر کئی شہروں میں ہڑتال کی گئی۔

بدھ کو صوبے کے بڑے شہروں کراچی اور حیدرآباد میں ہڑتال کا اتنا اثر نظر نہیں آیا۔

خیرپور، نوابشاہ، شکارپور، سانگھڑ، کندھ کوٹ، ٹنڈو محمد خان، نوشہروفیروز اور حیدرآباد سمیت کئی شہروں میں ہڑتال کی گئی۔

دادو میں کاروبار بند کرانے پر فریقین میں تصادم ہوگیا، جس کے دوران ہوائی فائرنگ بھی کی گئی، کندھ کوٹ میں بھی فائرنگ کی وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

اس ہڑتال کی وجہ سے کئی شہروں میں ٹرانسپورٹ بھی متاثر ہوئی، اس کے علاوہ سندھ، مہران یونیورسٹی اور میرپور خاص تعلیمی بورڈ نے اپنے امتحانات ملتوی کر دیے تھے۔

مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما امتیاز شیخ نے الزام عائد کیا کہ انتخابات میں لوگوں کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا، اس پر احتجاج تو سیاسی جماعتوں کی بنیادی حق ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس فیصل عرب اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 210 اور صوبائی اسمبلی کے چار حلقوں پی ایس 14، پی ایس 18، پی ایس 21اور پی ایس 93 کے نتائـج کا نوٹیفکیشن روکنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

قومی اسمبلی کی نشست پر پاکستان پیپلز پارٹی کے احسان الرحمان، اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر حاجی عبدالرؤف کھوسو، سرفراز شاہ، مسلم لیگ نون کے اسلم ابڑو اور تحریک انصاف کے حفیظ الدین کامیاب ہوئے تھے۔

ان امیدواروں کی کامیابی کے خلاف آزاد امیدوار میر غالب ڈومکی، نیشنل پیپلز پارٹی کے ابرار شاہ، پیپلز پارٹی کے مقیم کھوسو اور جماعت اسلامی کے امیدوار عبدالرزاق خان نے درخواست دائر کی ہے۔

درخواست گذاروں نے کامیاب امیدواروں پر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں اور کہا ہے کہ ان کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، ووٹوں کی گنتی میں بھی ہیرا پھیری کی گئی ہے۔

درخواست گزاروں نے ان حلقوں میں دوبارہ انتخابات کی استدعا کی ہے، عدالت نے الیکشن کمیشن اور دوسرے متعلقہ محکموں کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔