جنرل اشفاق پرویز کیانی کی قیادت کے چھ برس

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستانی فوج کے سبک دوش ہونے والے جنرل اشفاق پرویز کیانی نے چھ سالوں تک دنیا کے منظم ترین افواج میں سے ایک کی قیادت کی۔ چونکہ وہ سنہ 2006سے کئی اہم ترین عہدوں پر رہے اور شدت پسندی کے خلاف پاکستان میں جنگ کا سب سے زیادہ تجربہ رکھتے ہیں اس لیے توقع کی جا رہی ہے کہ حکومت ان کے اسی تجربے سے کسی نئی حیثیت میں استفادہ حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
<link type="page"><caption> ’میرا دور ختم ہو رہا ہے، اب دوسروں کی باری ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/10/131006_kayani_retirement_ispr_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
خاموش جنرل
پیپلز پارٹی کی سابق اور مسلم لیگ نواز کی موجودہ حکومت ان کی جمہوریت کی مضبوطی اور سیاستدانوں کو ان کا تھوڑا بہت جائز مقام دینے کے لیے جنرل کیانی کی ممنون رہی ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ جنرل کیانی کی میڈیا سے دوری بھی رہی۔
عوامی سطح پر اس ’خاموش‘ جنرل نے متنازع معاملات پر میڈیا میں بیانات کی بجائے مل بیٹھ کر حل کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔
پاکستانی تاریخ میں جنرل اشفاق پرویز کیانی شاید وہ واحد فوجی سربراہ رہے ہیں جنھوں نے کم گوئی کو اپنی پالیسی کا کلیدی حصہ بنائے رکھا۔ ان کے چھ برسوں میں یہ ذاتی پالیسی ادارے کی پالیسی بھی بن گئی۔ انٹرویو تو دور کی بات صحافیوں سے ’غیر رسمی‘ گفتگو سے بھی وہ پرہیز کرتے رہے۔
مجھے یاد ہے کہ گیاری سیکٹر میں ان سے جب صحافیوں نے گفتگو کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے سادگی سے یہ کہتے ہوئے صاف انکار کر دیا کہ انھوں نے ’چند دن پہلے اسی قسم کے دورے میں میڈیا سے بات کر کے اپنا چھ ماہ کا کوٹا پورا کر لیا ہے۔‘
ماضی میں ہر قومی فیصلے میں پیش پیش فوج کا اپنا موقف اب کہیں تلاش کرنے سے بھی نہیں ملتا۔ اطہر عباس اور وحید ارشد جیسے ترجمانوں کے نام صحافیوں کے دماغوں میں نقش ہیں۔ لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ آج کے ترجمان کا نام دماغ کے کسی کونے سے کرید کر نکالنا پڑتا ہے کہ وہ باجوہ صاحب ہیں، عاصم صاحب ہیں یا سلیم صاحب۔ اس کی وجہ ان کی بھی میڈیا سے دوری ہے۔
فوج اور حکومت میں رسہ کشی

اس خاموشی کا مقصد تو سیاسی و فوجی قیادت کو ایک پیج پر دکھانا ہے جیسے کہ سیاچن پر دیے گئے ان کے اس بیان سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ سیاسی حکومتوں کے لیے ہے کہ وہ فیصلے کریں، فوج ان پر محض عمل درآمد کرے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ’سب کو معلوم ہے کہ فوج سیاچن میں کیوں ہے۔ سنہ 1984 میں بھارتی فوج نے یہاں قبضہ کیا تھا اس کے جواب میں فوج یہاں آ کر بیٹھی ہے۔ فوج کا کام ہے ملک کا دفاع، فیصلے سیاسی حکومت نے کرنے ہیں۔‘
لیکن پس منظر میں فوجی و سیاسی رسہ کشی چھپانے سے بھی نہیں چھپتی۔ اس بابت کیری لوگر بل پر سیاسی قیادت سے اختلاف کھل کر سامنے آیا تھا۔ کیا اب ہر فیصلہ سیاسی قیادت کرتی ہے؟
بی بی سی کے صحافی الیاس خان کہتے ہیں کہ ’نئے فوجی سربراہ کی تقرری میں نواز شریف کی چھاپ واضح طور پر دکھائی دیتی ہے، لیکن ظاہر ہے بہت سے معاملات میں فوج کی رائے اب بھی وزن رکھتی ہے۔‘
فوج، جسے آج بھی ’مقدس گائے‘ تصور کیا جاتا ہے، پر سب سے زیادہ تنقید جنرل کیانی کے دور میں ہی ہوئی۔ میمو سکینڈل، ریمنڈ ڈیوس اور ایبٹ آباد واقعے نے تو جیسے اسے ہلا کر رکھ دیا۔
سیاسی رہنماؤں نے تو مصلحت کے تحت کچھ نہ کہا لیکن کہا جاتا ہے کہ فوج کے اندر کافی غم و غصہ پیدا ہوا۔ اس کی ایک مثال بریگیڈیئر علی خان کے کورٹ مارشل کا واقعہ ہے۔ انھیں سزا تو حزب التحریر سے مبینہ روابط کی بنیاد پر دی گئی لیکن کہا جاتا ہے کہ وہ اندرونی دباؤ کا بھی شاخسانہ تھا۔ یہ یہی دباؤ تھا جس نے جنرل کیانی کو اکتوبر میں اپنی ریٹائرمنٹ کا غیرمعمولی باضابطہ اعلان کرنے پر مجبور کیا۔
فوج اور عوام میں تاثر

فوج کے اندر جنرل کیانی کے چھ برسوں کو کیسے دیکھا گیا؟
اس بابت فوجی تجزیہ نگار بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ کہتے ہیں کہ جنرل کیانی کو سب سے زیادہ پڑھے لکھے جنرل کے طور یاد کیا جائے گا۔ ’وہ جتنے نظریے میں مضبوط تھے، اتنے ہی اسے عملی جامہ پہنانے کے بھی ماہر تھے۔‘
ایک اور سابق فوجی جنرل طلعت مسعود کہتے ہیں کہ ’جنرل کیانی کے دور میں فوج کا خارجہ و سکیورٹی پالیسی میں اثر و رسوخ کم نہیں ہوا ہے۔ لیکن مجموعی طور پر جنرل کیانی کا دور جمہوریت مخالف نہیں تھا۔‘
ان کے خاندان پر بدعنوانی کے کئی الزام لگے لیکن ثابت ایک بھی نہیں ہوا۔
اسلام آباد کے گلی کوچے میں عام آدمی نے ملک کے سب سے طاقتور سمجھے جانی والی شخصیت جنرل کیانی کو کیسا پایا؟ اس بابت ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے فوج کو اس کی اصل جگہ یعنی سیاسی قیادت کے پس منظر میں لے آئے ہیں۔ اب کوئی بھی جنرل جمہوریت کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ البتہ کئی ان پر ایبٹ آباد واقعے کی وجہ سے کڑی تنقید بھی کرتے ہیں۔ ان پر فوجی صلاحیت کی وجہ سے بھی سوال اٹھائے جاتے ہیں۔
پالیسیاں

<link type="page"><caption> جنرل کیانی کی دہشت گردی سے نمٹنے کی پالیسی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/10/131012_kayani_pma_passingout_address_rh.shtml" platform="highweb"/></link> کبھی فوجی کارروائی تو کبھی مقامی لشکروں کی مدد اور کبھی امن معاہدوں پر مبنی رہی۔ اس بابت ماسوائے شمالی وزیرستان تمام قبائلی علاقوں سے شدت پسندوں کو بےدخل تو کیا لیکن عسکری کارروائیوں کی حد تک وہ آج بھی ماضی سے زیادہ فعال تصور کیے جاتے ہیں۔
ان کے دور میں فوج پر جتنے بڑے اور ہولناک حملے ہوئے ان کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ لیکن ایک چیز جس پر فوج ان کی شکرگزار ہوگی وہ ان کی فوجیوں کی تریبت اور فلاح پر توجہ ہے۔
کہا جاتا ہے کہ جنرل کیانی اور ان کے حامیوں کی خواہش بظاہر آئندہ برس افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا تک رہنے کی تھی لیکن اندرونی دباؤ نے انھیں ایسا کرنے سے روک دیا۔
بھارت کے ساتھ کشیدگی میں کمی پر بھی جنرل کیانی مصر رہے کہ کشمیر جیسے مسائل کے حل تک بہتری کی کوئی گنجائش نہیں۔
نئے فوجی سربراہ کے لیے جنرل کیانی یقیناً کوئی آسان ذمے داریاں چھوڑ کر نہیں جا رہے ہیں۔ پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر بہتری کے لیے کوشش اب نئے فوجی سربراہ کو ہی کرنا ہوں گی۔







