مذاکرات آئینِ پاکستان میں رہتے ہوئے کیے جائیں: جنرل کیانی

’ہمیں کھلے ذہن کے ساتھ اس بات کو مان لینا چاہیے کہ ان مسائل کا حل نہ تو ایک شخص کے پاس ہے اور نہ ہی معاشرے کے ایک گروہ کے پاس ہے‘
،تصویر کا کیپشن’ہمیں کھلے ذہن کے ساتھ اس بات کو مان لینا چاہیے کہ ان مسائل کا حل نہ تو ایک شخص کے پاس ہے اور نہ ہی معاشرے کے ایک گروہ کے پاس ہے‘

پاکستان کی بّری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کا کہنا ہے کہ ہم نے غلطیاں کی ہیں لیکن کچھ اچھا بھی ضرور کیا ہے جس کی بدولت پاکستان آج بھی آزاد اور توانا ہے۔

یہ بات انہوں نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ ’فوج نے تمام کامیابیاں محدود وسائل میں رہتے ہوئے حاصل کی ہیں۔ نمبروں کا ہیر پھیر کرنے والے آپ کو جو بھی بتائیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دفاعی اخراجات قومی بجٹ کا اٹھارہ فیصد ہیں نہ کہ اسّی فیصد۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان آج مشکل دور سے گزر رہا ہے اور اقوام کی تاریخ میں مشکل وقت آتے رہتے ہیں۔ ’لیکن قومیں وہی آگے بڑھتی ہیں جو مشکل وقت کو چیلنج سمجھتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا ’سنہ انیس سو سینتالیس سے اب تک ہم نے ترقی کی ہے لیکن ہم مزید ترقی کرسکتے تھے۔ لیکن ہم نے غلطیاں کیں۔ سب سے پہلے تو ہم قائداعظم کے زریں اصول بھول گئے۔ اتحاد، ایمان اور تنظیم سے انحراف کیا اور عوام کی فلاح کو پسِ پشت ڈال دیا۔‘

جنرل کیانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ہم تاریخ پر نطر دوڑائیں تو دیگر وجوہات کے علاوہ ایک اہم وجہ ریاستی اداروں میں باہمی توازن کی کمی تھی۔ اس وجہ سے ریاستی نظام کا ارتقا غیر موزوں رہا۔‘

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ معاشی مواقع کی ناہمواری کے باعث امیر اور زیادہ امیر جبکہ غریب غریب اور زیادہ غریب ہوتا گیا۔

’کمزور نظام حکومت اور عدم برداشت نے ان خرابیوں کو مزید ہوا دی۔ ہمیں کھلے ذہن کے ساتھ اس بات کو مان لینا چاہیے کہ ان مسائل کا حل نہ تو ایک شخص کے پاس ہے اور نہ ہی معاشرے کے ایک گروہ کے پاس ہے۔ یہ بھی قبول کر لینا چاہیے کہ یہ مسائل چند ماہ یا چند سالوں میں حل نہیں ہوں گے۔‘

جنرل کیانی نے ملٹری اکیڈمی سے فارغ التحصیل ہو جانے والے کیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان مسائل کے حل کے لیے قومی قیادت کو ایک راہ دکھانی ہو گی جس کے بعد قوم کو اس پر ڈٹ جانا ہو گا۔

’لیکن یہ اسی وقت ممکن ہو گا جب ریاستی اداروں میں تعاون اور باہمی اشتراک ہو۔ تعاون اور باہمی اشتراک کی کمی کے باعث ملک کافی نقصان اٹھا چکا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’خاص طور پر سول اور عسکری روابط میں باہمی اعتماد اور ایک دوسرے پر قومی مقاصد کے لیے بھرپور انحصار لازمی ہے۔‘

جنرل کیانی نے خطاب میں کہا کہ مستقبل میں بھی فوج کو جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کی کوششیں جاری رہنی چاہییں لیکن ایسا اسی وقت ممکن ہے جب اداروں کا آپس میں باہمی اعتماد بھی بڑھے۔

’کسی بھی ملک میں اداروں کا باہمی اعتماد مثالی نہیں ہوتا اور یہ ارتقائی سفر ہے۔ لیکن اس باہمی اعتماد کا احاطہ کرنے میں سب سے اہم کردار معاشرے کا ہوتا ہے جو تعمیری تنقید کے ذریعے اصلاح کرتا ہے۔‘

تاہم جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ جہاں تنقید میں تضحیک کا پہلو آجائے تو وہاں یا تو ادارے باہمی تنازعات میں الجھ کر رہ جاتے ہیں یا پھر منجمد ہو جاتے ہیں۔ ’تنقید بجا ہے لیکن تضحیک سے پرہیز کی جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ غلطیوں سے سیکھنا چاہیے لیکن کامیابیوں کو مکمل طور پر نظر انداز کردینا ٹھیک نہیں ہے۔

جنرل کیانی نے دہشت گردی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ قومی قیادت نے شدت پسندوں سے بات چیت کا راستہ چنا ہے اور پاک فوج اس عمل کی حمایت کرتی ہے۔

انہوں نے کہا ’یہ مذاکرات کا عمل کن حدود میں رہ کر کرنا چاہیے اس کا فیصلہ بھی عوام اور سیاسی قیادت نے ہی کرنا ہے۔ جیسے جیسے یہ عمل بڑھ رہا ہے اس کی حدود واضح ہوتی جا رہی ہیں۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ یہ عمل آخر میں قوم میں یکسوئی لائے نہ کہ تقسیم۔ اسی لیے ضروری ہے کہ آئینِ پاکستان میں رہتے ہوئے اس کا مسئلے کا حل ڈھونڈا جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے اگر مسئلے کا حل نکلتا ہے تو فوج کو بہت خوشی ہو گی لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو فوج بھرپور طاقت کے استعمال کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’طاقت کا استعمال آخری آپشن ہے‘۔

’ایک رائے سامنے آتی ہے کہ فوج کی ناکامی کے باعث مذاکرات کرنے پڑ رہے ہیں۔ یہ رائے حقیقت سے بہت دور ہے۔ ہمیں وہ دن یاد رکھنا چاہیے جب اسلحہ بردار جتھے اسلام آباد سے ایک سو کلومیٹر دور تھے۔‘