’بھارتی فوجی قیادت کے الزامات اشتعال انگیز ہیں‘

پاکستان کو بھی لائن لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں پر تشویش ہے: جنرل کیانی
،تصویر کا کیپشنپاکستان کو بھی لائن لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں پر تشویش ہے: جنرل کیانی

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل کیانی نے بھارت کی فوجی قیادت کے پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر دہشت گردی کی حمایت کے الزامات کو اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شبعہ تعلقات عامۂ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق جنرل کیانی نے بھارت کی فوجی قیادت خصوصاً بری فوج کے سربراہ کی جانب سے پاکستان کی فوج اور خفیہ ادارے آئی ایس آئی پر دہشت گردی کی حمایت کے حالیہ الزامات کو افسوسناک، بے بنیاد اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔

<link type="page"><caption> ایل او سی کشیدگی: امن کے عمل میں دراڑ؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/01/130125_india_pakistan_spate_tim.shtml" platform="highweb"/></link>

تین دن پہلے ہی بھارتی فوج کی شمالی کمان کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل سنجے چھاجر نے لائن آف کنڑول کے بھارتی علاقے میں شدت پسندوں کے ساتھ اب تک کے طویل ترین مسلح تصادم ختم ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’لائن آف کنٹرول پر دونوں ملکوں کی افواج آمنے سامنے ہیں۔ اتنی بڑی <link type="page"><caption> تعداد میں دراندازوں کا یہاں داخل ہونا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2013/10/131008_kashmir_india_loc_fz.shtml" platform="highweb"/></link> پاکستانی فوج کی مدد کے بغیر ممکن ہی ہے۔‘

بیان کے مطابق جمعہ کو جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں افسروں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل کیانی نے کہا کہ پاکستان کو بھی لائن لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں پر تشویش ہے اور سال دو ہزار تین میں پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی تجویز دی تھی اور اس پر دونوں ملکوں نے اتفاق کیا تھا۔

’بے بنیاد الزام تراشیوں کی بجائے بھارت کو پاکستان کی اس پیشکش کو قبول کر لینا چاہیے جس میں لائن آف کنٹرول کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے اور ترجیحاً اقوام متحدہ کے ذریعے یہ تحقیقات کرائی جائیں۔‘

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم نیویارک میں ملاقات کے دوران اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ امن بات چیت میں پیش رفت کے لیے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر ہونے والے حملوں کو روکنا ضروری ہے۔

ملاقات کے بعد بھارتی وفد میں شامل قومی سلامتی کے مشیر شو شنکر مینن نے صحافیوں کو بتایا کہ ملاقات میں یہ طے پایا ہے کہ اس سلسلے میں دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او آپس) میں ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں یہ بھی کہا گیا کہ لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کو دوبارہ بحال کیا جائے گا۔

دونوں ممالک کے تعلقات سال دو ہزار آٹھ میں ممبئی حملے کے بعد کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے اور گزشتہ دو سال کے دوران ان میں قدرے بہتری کے آثار نظر آنا شروع ہوئے تھے لیکن رواں سال کے آغاز پر دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر جاری جھڑپوں کی وجہ سے دوبارہ کشیدگی کا شکار ہو گئے ہیں۔ رواں سال لائن آف کنٹرول پر دو طرفہ فائرنگ کے واقعات میں عام شہری اور فوجی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔